صحرا بھی لالہ زار ہے ماں کے وجود سے

صحرا بھی لالہ زار ہے ماں کے وجود سے
اک سرمدی بہار ہے ماں کے وجود سے

رنگوں سے مل کے بنتی ہے جس طرح روشنی
رشتوں کا اعتبار ہے ماں کے وجود سے

بے آب موسموں کا تحیر بجا مگر
سامانِ برگ و بار ہے ماں کے وجود سے

بچوں کی آس ٹوٹنے دیتی نہیں دعا
ہر خواب زر نگار ہے ماں کے وجود سے

جانیں وہ لوگ کھو چکے جو نعمتِ عظیم
خوشیوں کی آبشار ہے ماں کے وجود سے

جاذبؔ ہمہ جہت ہیں محبت کے سلسلے
یہ بحرِ بے کنار ہے ماں کے وجود سے

اکرم جاذؔب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *