میری آنکھوں سے مرا درد عیاں تھوڑی ہے
تیرے جیسا مرا اندازِ بیاں تھوڑی ہے
اپنی مرضی کے مطابق میں رہوں گا اس میں
یہ جہاں تو مرا ہے تیرا جہاں تھوڑی ہے
یہاں سب چاک گریباں ہی ملے گے تجھ کو
یہ تو ہے شہرِ جنوں ، شہرِ بتاں تھوڑی ہے
اس میں رہنا ہے تو جانواِسے اپنا جاناں!
میرا دل کوئی کرائے کا مکاں تھوڑی ہے
کیا ہوا جو اُنہیں فرقت کی نظر آئی کرن
ہجر کی آس بچھڑنے کی اذاں تھوڑی ہے
دیکھ سکتا ہوں تجھے چار سو میں اپنے دوست
تو یقیں ہے مرا تو میرا گماں تھوڑی ہے
یاد میں کوئی محل کیسے بنا پائے گا
یہ مزمل ہے کوئی شاہ جہاں تھوڑی ہے