ہجر میں بھی وصال ہے ماہین
خوش گمانی کا سال ہے ماہین
بھولنے پر وہ یاد آتا ہے
یہ انوکھا کمال ہے ماہین
اس کے ہونٹوں سے مس ہوا ہو گا
پھول کا رنگ لال ہے ماہین
کاسہء چشم بھی نگاہ میں رکھ
اس میں بھی اِک سوال ہے ماہین
کیا یہ منظر بدلنے والا ہے
کیا یہ وقت ِ زوال ہے ماہین
ان ہواؤں کے سامنے آخر
کیا دِیے کی مجال ہے ماہین
جس کا کوئی جواب ہی نہیں ہے
عشق ایسا سوال ہے ماہین