حضرتِ حسن کے ہاں جسم کو گروی رکھ کر
خود کو سرشار کیا روح کو وحشی رکھ کر
میری بانہوں میں پڑی رہتی ہو ساری رتیا
میں تمہیں سوچتا ہوں ذہن میں ماضی رکھ کر
میں نے جانا ہے تجھے پھول سے بڑھ کر جاناں!
میں نے جانا ہے ترے چہرے پہ تتلی رکھ کر
شوق میں ، میں نے بہت اس کو پزیرائی دی
داستاں تو نے بڑھا دی ہے ادھوری رکھ کر
کھینچ لایا ہوں کہانی میں سفر صدیوں کا
اس کہانی میں ، میں کرداروں کو جلدی رکھ کر
جانے کس بات کا بدلا لیا ہے مجھ سے غزلؔ
میری قسمت میں خدا نے یہ خرابی رکھ کر
مزمل حسین چیمہ