سر پہ باندھا ہے یوں کفَن اپنا
ہے پریشان گورکن اپنا
خشک پڑ ہی گیا یہ غنچہ ء سبز،
ٹھیکری ہو گیا دہَن اپنا
دل میں اتری ہیں یوں تری یادیں،
بَھر گیا جگنوؤں سے بن اپنا
خار پِھر جاتا ہے رگ و پَے میں،
یوں پتا دیتی ہے چُبَھن اپنا
اس قدر خاک اڑا نہ وحشت میں
صاف رکھ صاف پیرہن اپنا!