میرے کپڑوں سے مہک جائے گی کچھ وقت کے بعد

میرے کپڑوں سے مہک جائے گی کچھ وقت کے بعد
یہ محبت کی کسک جائے گی کچھ وقت کے بعد

بس اسی دھن میں جلاتا ہوں چراغوں پہ چراغ
بادِ بے رحم بھی تھک جائے گی کچھ وقت کے بعد

سیر کرتا ہوں مضافات کی پگڈنڈیوں پر
شہرِ دل کو بھی سڑک جائے گی کچھ وقت کے بعد

اپنی آواز میں احساس کی شدت بھی ملا
ہر سماعت میں دھمک جائے گی کچھ وقت کے بعد

ہاتھ پہنچیں گے کبھی پکے ثمر پر جاذبؔ
اور ٹہنی بھی لچک جائے گی کچھ وقت کے بعد

اکرم جاذؔب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *