Profile
کملہ بھاسن (Kamla Bhasin)
پیدائش: 24 اپریل 1946 – شہیدانوالی، منڈی بہاءالدین، پنجاب (اس وقت برٹش انڈیا)
وفات: 25 ستمبر 2021 – نئی دہلی، بھارت
پیشہ: فیمینسٹ ایکٹوسٹ، شاعرہ، مصنفہ، سوشل سائنٹسٹ
زبان: ہندی، انگریزی
تعلیم: ماسٹرز ان آرٹس – راجستھان یونیورسٹی، سوشیالوجی آف ڈیولپمنٹ (یونیورسٹی آف مینسٹر، جرمنی)
اہم ادارہ: سانگت (Sangat – A Feminist Network)
اہم کام: Borders & Boundaries: Women in India’s Partition
مشہور نظم: “آزادی” (Azadi) – نسوانی نظریے پر مبنی انقلابی نظم
کملہ بھاسن جنوبی ایشیا کی ایک نمایاں فیمینسٹ، شاعرہ اور ترقی پسند مفکر تھیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی عورتوں کے حقوق، سماجی انصاف، اور انسانی ترقی کے لیے وقف کر دی۔ وہ “سانگت – اے فیمینسٹ نیٹ ورک” کی بانی رکن تھیں اور اپنی نظم “کیونکہ میں لڑکی ہوں، مجھے پڑھنا ہے” اور مشہور نظم “آزادی” کی وجہ سے پورے برصغیر میں پہچانی جاتی ہیں۔
1970 کی دہائی سے لے کر اپنی وفات تک وہ تعلیم، مساوات، اور خواتین کے شعور کی بیداری کے لیے سرگرم رہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں کام کرنے کے بعد اپنی نوکری چھوڑ دی تاکہ سماجی میدان میں عملی تبدیلی لا سکیں۔ ان کی تحریک نے ہزاروں خواتین کو معاشرتی، تعلیمی، اور فکری طور پر مضبوط کیا۔
جنوبی ایشیا میں نسوانی تحریک کی بنیاد رکھنے والی اہم شخصیات میں سے ایک۔
سانگت نیٹ ورک کے ذریعے سینکڑوں خواتین کے لیے تربیتی کورسز منعقد کیے۔
“آزادی” نظم کے ذریعے خواتین کے حقِ آزادی کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
عورت، طبقہ، اور ذات پات کے رشتوں پر گہری تحقیق کی۔
کتاب “Borders & Boundaries: Women in India’s Partition” میں تقسیمِ ہند کے دوران عورتوں کے دکھ کو آواز دی۔
سرمایہ داری اور مردانہ سماج کے اتحاد کے خلاف فکری جدوجہد کی۔
کملہ بھاسن کے نزدیک فیمینزم مردوں کے خلاف جنگ نہیں بلکہ ایک نظریاتی جدوجہد ہے — ایک ایسا نظریہ جو مساوات، احترام اور انسانیت پر مبنی معاشرہ چاہتا ہے۔ وہ کہتی تھیں:
“فیمینزم عورت اور مرد کے درمیان جنگ نہیں، دو نظریات کی جنگ ہے — ایک جو طاقت دیتا ہے، اور دوسرا جو برابری مانگتا ہے۔”
Borders & Boundaries: Women in India’s Partition
Understanding Gender
What Is Patriarchy?
Laughing Matters
Feminism & Its Relevance in South Asia
“یہ سب اس وقت شروع ہوا جب نجی جائیداد وجود میں آئی، جب مردوں نے اپنے بچوں کی شناخت کے لیے عورتوں پر اختیار جمانا شروع کیا۔ یہی پدرشاہی کی بنیاد ہے۔” – کملہ بھاسن
کملہ بھاسن کا نام جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ہمیشہ ایک مضبوط، فکری، اور جرات مند خاتون کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ان کی آواز نے سرحدوں، طبقوں اور نظریاتی دیواروں کو توڑا، اور عورت کو اس کے بنیادی حقِ آزادی کی یاد دہانی کرائی۔
Map
Loading…
No Records Found
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Maps failed to load
Sorry, unable to load the Maps API.





