Profile
پپلی (Pipli)
موضع پپلی ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ کا ایک قدیم، زرعی اور خوشحال گاؤں ہے۔ یہ گاؤں ضلع منڈی بہاؤالدین سے تقریباً 63 کلومیٹر جبکہ تحصیل پھالیہ سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ دریائے جہلم کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس کی زمین انتہائی زرخیز ہے اور یہاں مختلف اقسام کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ گاؤں اپنی زرعی پیداوار، تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان، مہمان نواز آبادی اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی بڑی تعداد کی وجہ سے علاقے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
محلِ وقوع
پپلی کے گرد و نواح میں درج ذیل دیہات واقع ہیں:
- ممدانہ
- 11 چک
- حسوآنہ
- ریڑکا
- چک عالم
دریائے جہلم کی قربت نے اس گاؤں کو قدرتی وسائل اور زرعی اعتبار سے خصوصی اہمیت عطا کی ہے۔
رقبہ
گاؤں کا کل رقبہ تقریباً 48 مربعے (تقریباً 1200 ایکڑ) ہے۔
زمین نسبتاً مساوی انداز میں مختلف خاندانوں میں تقسیم ہے اور کسی ایک خاندان کے پاس بہت زیادہ اراضی موجود نہیں۔ عموماً کسی بھی زمیندار کے پاس 40 ایکڑ سے زیادہ زمین نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہاں جاگیرداری نظام نمایاں نہیں بلکہ زمین کی نسبتاً متوازن تقسیم پائی جاتی ہے۔
آبادی
گاؤں میں تقریباً 300 گھرانے آباد ہیں جبکہ کل آبادی تقریباً 2200 افراد پر مشتمل ہے۔
تمام آبادی مسلمان ہے، جن میں اہل سنت اور اہل تشیع دونوں مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔ گاؤں میں غیر مسلم آبادی موجود نہیں۔
رجسٹرڈ ووٹرز
رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد تقریباً 850 ہے، جن میں مرد اور خواتین تقریباً برابر ہیں۔
مقامی حکومت کے انتخابات میں مرد و خواتین دونوں ووٹ کاسٹ کرتے ہیں، جبکہ روایتی طور پر قومی اور صوبائی انتخابات میں مردوں کی شرکت زیادہ نمایاں رہی ہے۔ انتخابی سیاست کے دوران گاؤں مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، تاہم مجموعی طور پر سماجی ہم آہنگی برقرار رہتی ہے۔
اہم برادریاں
پپلی میں متعدد برادریاں آباد ہیں، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:
- گوندل
- وڑائچ
- ٹلہ
- چیمہ
- راجھے
- کمہار
- ماچھی
- لوہار
- ڈیندڑ
- ترکھان
- نائی
یہ تمام برادریاں باہمی احترام اور روایتی پنجابی اقدار کے ساتھ آباد ہیں۔
ذریعہ معاش
گاؤں کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر قائم ہے۔
اہم ذرائع آمدن درج ذیل ہیں:
- زراعت
- سرکاری ملازمت
- واپڈا
- پاک فوج
- بیرونِ ملک روزگار
گاؤں کے متعدد افراد درج ذیل ممالک میں مقیم ہیں:
- فرانس
- اسپین
- یونان
- اٹلی
- کویت
- سعودی عرب
- عمان
بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
رہن سہن
پپلی کے لوگ سادہ، محنتی، دیانت دار اور مہمان نواز ہیں۔
لوگ صبح کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور شام کو اپنے گھروں اور ڈیرہ جات پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ نوجوانوں میں کرکٹ، والی بال اور دیگر کھیلوں کا شوق پایا جاتا ہے۔
گاؤں میں امن و امان کی صورتحال عمومی طور پر بہتر رہتی ہے اور لوگ باہمی اختلافات کو بڑھانے سے گریز کرتے ہیں۔
بازار
گاؤں میں کوئی باقاعدہ بازار موجود نہیں۔
روزمرہ ضروریات کے لیے تقریباً چار کریانہ سٹور موجود ہیں، جبکہ بڑی خریداری کے لیے لوگ گوجرہ اور سرگودھا کا رخ کرتے ہیں۔
مساجد
گاؤں میں کل پانچ مساجد موجود ہیں، جن میں دو جامع مساجد شامل ہیں۔
یہ مساجد دینی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہیں۔
مزارات
گاؤں میں ایک معروف مزار موجود ہے، جہاں مقامی افراد عقیدت کے ساتھ حاضری دیتے ہیں۔
تعلیم
پپلی میں تعلیم کا معیار نسبتاً بہتر ہے اور تقریباً ہر بچہ سکول جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں میں شامل ہیں:
- گورنمنٹ پرائمری سکول برائے بوائز
- گورنمنٹ پرائمری سکول برائے گرلز
- متعدد نجی سکول
تعلیم کے فروغ نے نوجوان نسل میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا رجحان بڑھایا ہے۔
نمایاں شخصیات
گاؤں کی معروف سماجی شخصیات میں شامل ہیں:
- حاجی غلام عباس ولد سائیں محمد گوندل (جنرل کونسلر)
- حاجی ریاض احمد (اسپین)
- امجد اقبال ولد محمد صدیق گوندل (اسپین)
- چوہدری محمد خان مرحوم ولد پہلوان خان گوندل
- چوہدری محمد یار ولد شیرا گوندل
- چوہدری انصار عباس (اے ٹی)
- بابر عباس
- چوہدری اعجاز احمد (والی بال ٹیم کے کپتان)
- چوہدری محمد اقبال (کرکٹ ٹیم کے کپتان)
- چوہدری ذوالفقار احمد (کبڈی ٹیم کے کپتان)
اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیات
تعلیم اور پیشہ ورانہ میدان میں نمایاں افراد:
- فیصل مختار گوندل ایڈووکیٹ
- اعجاز احمد (پاک فوج)
- ارشد محمود (پاک فوج)
- محمد امیر (پاک فوج)
- محمد اقبال (زکوٰۃ کمیٹی)
- ڈاکٹر حاجی ریاض احمد
- ڈاکٹر شوکت حیات
- حکیم عمر فاروق
صحت
گاؤں میں سرکاری ہسپتال موجود نہیں۔
دو نجی کلینک بنیادی طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں جبکہ ایک لیڈی ہیلتھ ورکر خواتین میں صحت اور زچگی سے متعلق آگاہی فراہم کرتی ہیں۔
بڑے علاج کے لیے عوام گوجرہ اور سرگودھا کے ہسپتالوں سے رجوع کرتے ہیں۔
نباتات اور حیوانات
دریائے جہلم کے قریب ہونے کی وجہ سے پپلی کا قدرتی ماحول نہایت دلکش ہے۔
گھریلو جانور
- بھینس
- گائے
- بیل
- بکری
- بھیڑ
- گھوڑے
- گدھے
- کتے
- بلیاں
- مرغیاں
- کبوتر
- بطخیں
- خرگوش
- مچھلی
جنگلی حیات
- گیدڑ
- سانپ
- جنگلی سور
- جنگلی بلی
- کچھوا
- مختلف اقسام کی مچھلیاں
- طوطے
- چڑیاں
- بگلے
- جنگلی بطخیں
اہم درخت اور پودے
گاؤں میں درج ذیل درخت عام پائے جاتے ہیں:
- کیکر
- ٹاہلی
- گلاب
- مالٹا
- امرود
- آم
- دھریک
- بانس
زرعی پیداوار
پپلی کی زمین انتہائی زرخیز ہے اور آبپاشی کے لیے پیٹر انجنوں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اہم فصلیں:
- گندم
- دھان
- مکئی
- آلو
- جو
- گنا
- مٹر
- چنا
- مختلف سبزیاں
موضع پپلی تحصیل پھالیہ کا ایک قدیم، زرعی اور خوشحال گاؤں ہے، جو زرخیز زمین، دریائے جہلم کی قربت، متوازن زرعی ملکیت، بہتر تعلیمی رجحان، سماجی ہم آہنگی اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ گوندل، وڑائچ، چیمہ، ٹلہ اور دیگر برادریاں یہاں باہمی احترام اور روایتی پنجابی اقدار کے ساتھ آباد ہیں۔ اگر مستقبل میں صحت، اعلیٰ تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی سہولیات میں مزید بہتری لائی جائے تو پپلی ترقی اور خوشحالی کی مزید منازل طے کر سکتا ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






