تحصیل پھالیہ کے قدیم جنگلات، درخت اور جڑی بوٹیاں — گزٹیئر آف گجرات 1921 کی روشنی میں
گزٹیئر آف گجرات 1921 کے مطابق تحصیل پھالیہ کا بڑا حصہ “بار” کے علاقے پر مشتمل تھا، جو ماضی میں اپنے گھنے جنگلات، قدرتی چراگاہوں، نایاب درختوں اور ادویاتی پودوں کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا تھا۔ آج اگرچہ اس خطے کی بڑی زمین زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے، لیکن ایک وقت تھا جب پھالیہ کے میدان سرسبز جنگلات، جھاڑیوں اور وسیع چراگاہوں سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ قدرتی ماحول نہ صرف علاقے کی خوبصورتی کا حصہ تھا بلکہ یہاں کے لوگوں کی معیشت، رہن سہن، مویشی پالنے اور دیہی زندگی سے بھی گہرا تعلق رکھتا تھا۔
بار کا علاقہ اپنی نیم خشک آب و ہوا اور مخصوص مٹی کی وجہ سے ایسے درختوں اور گھاسوں کے لیے موزوں سمجھا جاتا تھا جو کم پانی میں بھی نشوونما پا سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پھالیہ کے جنگلات میں کئی ایسے قدیم درخت موجود تھے جو صدیوں سے اس خطے کی پہچان بنے ہوئے تھے۔ ان درختوں کا استعمال صرف ایندھن یا تعمیرات تک محدود نہیں تھا بلکہ دیہی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں ان کا کردار موجود تھا۔
پھالیہ کے جنگلات میں سب سے زیادہ مشہور درخت “ون” تھا۔ یہ ایک سدا بہار درخت سمجھا جاتا تھا اور بار کے علاقے میں کثرت سے پایا جاتا تھا۔ اگرچہ اس کی لکڑی زیادہ مضبوط یا دیرپا نہیں سمجھی جاتی تھی، لیکن چونے کے بھٹے جلانے کے لیے یہ نہایت موزوں تھی۔ اسی وجہ سے مقامی لوگ اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرتے تھے۔ ون دراصل ان درختوں میں شامل تھا جو بار کے قدرتی جنگلات کی بنیادی شناخت سمجھے جاتے تھے۔
اسی طرح “جند” بھی پھالیہ کے بار کا ایک اہم اور قدیم درخت تھا۔ یہ ایک خاردار درخت ہوتا تھا جس کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک جاتی تھیں۔ یہی خصوصیت اسے خشک اور کم بارش والے علاقوں میں زندہ رہنے کے قابل بناتی تھی۔ جند کی لکڑی ایندھن کے طور پر نہایت عمدہ سمجھی جاتی تھی اور دیہی علاقوں میں اسے روزمرہ ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بار کے پرانے ماحول کا ذکر جند کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا تھا۔
کریل ایک جھاڑی نما درخت تھا جس پر پتے بہت کم ہوتے تھے، لیکن اس کی لکڑی خاصی مضبوط سمجھی جاتی تھی۔ مقامی لوگ اس کی لکڑی کو مکانات کی چھتوں میں کڑیوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پھالیہ کے قدیم جنگلات صرف قدرتی حسن کا حصہ نہیں تھے بلکہ دیہی تعمیرات میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے تھے۔
چھیچھرا ایک ایسا درخت تھا جو نسبتاً نم آلود مقامات پر پایا جاتا تھا۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس کی لکڑی پانی کے اندر بھی دیر تک خراب نہیں ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے اسے کنوؤں کی تعمیر میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس دور میں جب دیہی علاقوں میں پانی کے حصول کا بنیادی ذریعہ کنوئیں تھے، ایسے درختوں کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔
“سکر” بھی پھالیہ کے جنگلات کا ایک اہم کانٹوں والا درخت تھا۔ اس کی لکڑی مضبوط سمجھی جاتی تھی اور اس سے زرعی اوزار تیار کیے جاتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے کی زراعت بھی انہی مقامی قدرتی وسائل پر انحصار کرتی تھی۔ ان درختوں کے علاوہ پھلائی، بیر، کیکر، ٹاہلی (شیشم)، دھریک اور توت جیسے درخت بھی اس علاقے میں عام پائے جاتے تھے۔ یہ درخت سایہ، ایندھن، لکڑی، چارہ اور بعض صورتوں میں خوراک کا ذریعہ بھی بنتے تھے۔
تحصیل پھالیہ کے جنگلات صرف درختوں تک محدود نہیں تھے بلکہ یہاں کئی اہم جڑی بوٹیاں اور ادویاتی پودے بھی پائے جاتے تھے، جنہیں مقامی لوگ مختلف بیماریوں اور علاج معالجے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہ پودے دیہی طب اور روایتی علاج کا اہم حصہ تھے۔
ان میں “سرپنکھ” ایک مشہور پودا تھا، جو خاص طور پر بارش کے موسم میں تحصیل پھالیہ اور کرنوالہ کے علاقوں میں اگتا تھا۔ مقامی لوگ اسے خون صاف کرنے والی دوا کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ دیہی طب میں اس پودے کو خاص اہمیت حاصل تھی اور مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے اسے مفید سمجھا جاتا تھا۔
اسی طرح “اندرائن” یا “تمہ” بار کے علاقے میں کثرت سے پایا جاتا تھا۔ یہ پودا خاص طور پر گھوڑوں کے علاج میں استعمال کیا جاتا تھا اور اسے قبض کشا دوا کے طور پر دیا جاتا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں جانوروں کی دیکھ بھال اور علاج کے لیے بھی مقامی جڑی بوٹیوں پر انحصار کیا جاتا تھا۔
“اسبغول” بھی پھالیہ کے بار میں بارش کے موسم میں اگنے والا ایک اہم پودا تھا۔ اسے پیچش اور معدے کی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آج بھی اسبغول پورے برصغیر میں ایک معروف قدرتی دوا کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صدیوں پرانا نباتاتی علم آج تک زندہ ہے۔
پھالیہ کے جنگلات اور چراگاہیں مختلف اقسام کی گھاسوں کے لیے بھی مشہور تھیں، جو مویشی پالنے والوں کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتی تھیں۔ چونکہ بار کا علاقہ ماضی میں چرواہوں اور مویشی پالنے والے قبائل کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اس لیے ان گھاسوں کی معاشی اہمیت بہت زیادہ تھی۔
“کھبل” ایک غذائیت سے بھرپور گھاس تھی جو پھالیہ کے جنگلات میں بڑی مقدار میں اگتی تھی۔ اسی طرح “دھمن” کو مویشیوں کے لیے نہایت طاقتور اور مفید گھاس سمجھا جاتا تھا۔ “پلواں” بھی ایک اچھی قسم کی گھاس تھی جسے جانور شوق سے کھاتے تھے۔ ان کے علاوہ چھبر، مدونہ، کھوئی، سوانک اور ڈیلا جیسی گھاسیں بھی اس علاقے میں عام پائی جاتی تھیں۔
یہ تمام قدرتی وسائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تحصیل پھالیہ کا بار محض ایک خشک میدان نہیں تھا بلکہ ایک مکمل قدرتی ماحولیاتی نظام رکھتا تھا۔ یہاں کے جنگلات، گھاسیں اور جڑی بوٹیاں مقامی معیشت، مویشی پالنے، تعمیرات، زراعت اور دیہی علاج معالجے کا بنیادی حصہ تھیں۔
تاہم وقت کے ساتھ حالات تبدیل ہوتے گئے۔ اپر جہلم کینال اور نہری نظام کے قیام کے بعد اس خطے میں بڑے پیمانے پر زرعی زمینیں آباد ہوئیں۔ جہاں پہلے جنگلات اور چراگاہیں تھیں وہاں کھیت بن گئے، اور آہستہ آہستہ بار کے قدیم جنگلات کا بڑا حصہ ختم ہو گیا۔ اگرچہ اس تبدیلی نے زراعت اور معیشت کو فروغ دیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قدرتی نباتات اور پرانا ماحولیاتی نظام بھی شدید متاثر ہوا۔
آج تحصیل پھالیہ کے وہ گھنے جنگلات بڑی حد تک ماضی کا حصہ بن چکے ہیں، لیکن گزٹیئر آف گجرات 1921 میں محفوظ یہ تفصیلات اس خطے کے قدرتی ورثے کی ایک اہم یادگار ہیں۔ یہ معلومات نہ صرف ماضی کے ماحول اور دیہی زندگی کی تصویر پیش کرتی ہیں بلکہ یہ احساس بھی دلاتی ہیں کہ پھالیہ کبھی سرسبز جنگلات، نایاب درختوں، ادویاتی پودوں اور وسیع چراگاہوں کا ایک خوبصورت خطہ تھا۔

Leave a Reply