امرتا پریتم
برصغیر کی عظیم شاعرہ | ناول نگار | نسائی شعور کی علامت | پنجابی ادب کی درخشاں آواز
📌 تعارف
امرتا پریتم (Amrita Pritam) برصغیر کی معروف شاعرہ، ناول نگار، مضمون نگار اور ادبی دانشور تھیں، جنہوں نے پنجابی اور ہندی ادب میں ایک منفرد اور ناقابلِ فراموش مقام حاصل کیا۔ وہ بیسویں صدی کی ان چند ادبی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے محبت، ہجرت، عورت کے دکھ، سماجی جبر اور انسانی احساسات کو انتہائی درد مندانہ اور دلنشیں انداز میں قلم بند کیا۔
امرتا پریتم کو خاص طور پر تقسیمِ ہند کے المیے پر لکھی گئی شہرۂ آفاق نظم “اج آکھاں وارث شاہ نوں” کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل ہوئی، جسے پنجاب کے اجتماعی دکھ اور انسانی سانحے کی سب سے مؤثر ادبی آواز تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے شاعری، ناول، افسانہ، سوانح عمری، تنقید اور صحافت سمیت ادب کی تقریباً ہر صنف میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
👤 ابتدائی زندگی
- اصل نام: امرت کور
- ادبی نام: امرتا پریتم
- پیدائش: 31 اگست 1919ء
- جائے پیدائش: باہو مانگا، ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب
- وفات: 31 اکتوبر 2005ء، نئی دہلی
امرتا پریتم ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کرتار سنگھ ہتکاری شاعر، عالم اور ادبی جریدے کے مدیر تھے جبکہ والدہ ایک استادہ تھیں۔
بچپن ہی سے انہیں ادبی ماحول میسر آیا، مگر والدہ کی وفات نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ یہی تنہائی بعد میں ان کی شاعری میں درد، حساسیت اور جذباتی گہرائی کی صورت میں نمایاں ہوئی۔
📚 تعلیم و ادبی آغاز
امرتا پریتم نے ابتدائی تعلیم پنجاب میں حاصل کی، بعد ازاں لاہور منتقل ہوئیں جہاں ان کی ادبی شخصیت مزید نکھری۔
صرف سولہ برس کی عمر میں ان کا پہلا شعری مجموعہ “امرت لہراں” شائع ہوا، جس نے ادبی حلقوں میں ان کی آمد کا اعلان کر دیا۔
ابتدائی دور میں ان کی شاعری رومانوی رنگ لیے ہوئے تھی، مگر جلد ہی انہوں نے ترقی پسند تحریک سے وابستگی اختیار کی اور سماجی، انسانی اور نسائی موضوعات کو اپنی تحریروں کا مرکز بنا لیا۔
✍️ ادبی خدمات
امرتا پریتم نے سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں، جن میں:
📖 شاعری
- سنیہڑے
- کاغذ تے کینوس
- لوک پیڑاں
- ناگ منی
- اک بات
📚 ناول
- پنجر
- ڈاکٹر دیو
- دہلی دیاں گلیاں
- جلاؤطن
📕 سوانح عمری
- رسیدی ٹکٹ
- کالا گلاب
- لفظوں کے سائے
📑 دیگر خدمات
- پنجابی ادبی جریدہ “ناگ منی” کی ادارت
- خواتین، محبت، روحانیت اور سماجی شعور پر تحریریں
- پنجابی لوک ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار
🌍 تقسیمِ ہند اور “اج آکھاں وارث شاہ نوں”
1947ء کی تقسیمِ ہند امرتا پریتم کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ ثابت ہوئی۔ انہیں لاہور چھوڑ کر بھارت ہجرت کرنا پڑی۔
اسی دوران انہوں نے اپنی مشہور نظم:
“اج آکھاں وارث شاہ نوں”
تحریر کی، جس میں انہوں نے اٹھارہویں صدی کے عظیم صوفی شاعر Waris Shah کو مخاطب کرتے ہوئے پنجاب کے دکھ، قتل و غارت اور انسانی المیے کا نوحہ لکھا۔
یہ نظم آج بھی تقسیمِ ہند کے درد کی سب سے طاقتور ادبی علامت سمجھی جاتی ہے۔
📖 ناول “پنجر”
امرتا پریتم کا شہرۂ آفاق ناول:
Pinjar
تقسیمِ ہند کے دوران عورتوں پر ہونے والے ظلم، جبر اور شناخت کے بحران کی انتہائی مؤثر عکاسی کرتا ہے۔
اس ناول پر بعد میں ایک کامیاب فلم بھی بنائی گئی، جس نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔
🏆 اعزازات
امرتا پریتم کو ان کی ادبی خدمات پر متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا:
- ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1956)
- گیان پیٹھ ایوارڈ (1982)
- پدم شری (1969)
- پدم وبھوشن (2004)
- ساہتیہ اکادمی فیلوشپ
- فرانس کا ادبی اعزاز “Ordre des Arts et des Lettres”
- پنجاب رتن ایوارڈ
وہ پنجابی زبان میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔
❤️ ذاتی زندگی
امرتا پریتم کی ذاتی زندگی بھی ان کی شاعری کی طرح جذبات، محبت اور حساسیت سے بھرپور رہی۔
ان کی محبت کا ذکر معروف شاعر Sahir Ludhianvi کے ساتھ خاص طور پر کیا جاتا ہے، جبکہ بعد ازاں مصور اور ادیب Imroz ان کے دیرینہ رفیقِ حیات بنے۔
امرتا اور امروز کی محبت برصغیر کی ادبی تاریخ کی خوبصورت ترین داستانوں میں شمار ہوتی ہے۔
🌟 ادبی اسلوب و فکر
امرتا پریتم کی تحریروں کی نمایاں خصوصیات:
- نسائی شعور
- محبت اور روحانیت
- تقسیمِ ہند کا کرب
- انسانی تنہائی
- عورت کی شناخت
- سماجی جبر کے خلاف آواز
- سادہ مگر اثر انگیز زبان
ان کی شاعری میں دکھ کے ساتھ امید، محبت اور زندگی کا فلسفہ بھی موجود ہے۔
امرتا پریتم صرف ایک شاعرہ نہیں بلکہ برصغیر کی اجتماعی روح کی ترجمان تھیں۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے عورت کے احساسات، انسانی دکھ، محبت اور تاریخ کے زخموں کو ایسی زبان دی جو نسلوں تک زندہ رہے گی۔
وہ پنجابی ادب کی ایک لازوال علامت ہیں، جن کا نام ہمیشہ وارث شاہ، بلھے شاہ اور فیض جیسے عظیم ادبی ستاروں کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.





