چوہدری جہان خان بوسال
سیاست دان | مسلم لیگی رہنما | رکنِ اسمبلی
تعارف
چوہدری جہان خان بوسال برصغیر کے اُن مسلم سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے برطانوی سامراج کے دور میں عوامی نمائندگی، دیہی انصاف اور مسلم سیاسی شعور کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ اپنے عہد میں جرأت، بصیرت اور عوامی وابستگی کے باعث ایک مؤثر سیاسی شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ انہیں عوامی حلقوں میں ’’کنگ آف دی بار‘‘ چوہدری مانک خان بوسال کے قریبی رشتہ دار اور فکری جانشین کے طور پر جانا جاتا تھا، جبکہ ان کی سیاسی شناخت مسلم لیگ کے فعال رہنما کی حیثیت سے مستحکم رہی۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
چوہدری جہان خان بوسال کی پیدائش 1901ء میں چھنی ہاشم بوسال میں ہوئی۔ وہ چوہدری رحمت خان بوسال کے فرزند اور ’’کنگ آف دی بار‘‘ چوہدری
ما نک خان بوسال کے حقیقی بھتیجے تھے۔ ان کی ابتدائی تربیت، تعلیم اور سماجی شعور کی تشکیل براہِ راست اپنے چچا کی زیرِ نگرانی ہوئی، جنہیں وہ والد کا درجہ دیتے تھے۔ بچپن ہی سے انہیں عوامی معاملات، دیہی تنازعات کے حل اور سماجی انصاف کے اصولوں سے روشناس کرایا گیا۔
سیاسی کیریئر
چوہدری جہان خان بوسال نے عملی سیاست کا آغاز اپنے چچا کے مشورے پر کیا۔
1936ء میں انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا۔
انتخابی مہم انہوں نے خود منظم کی اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر ایم ایل اے (Member Legislative Assembly) منتخب ہوئے۔
9 اپریل 1946ء کو دہلی میں قائد اعظم محمد علی جناح کی زیرِ صدارت مسلم لیگ کے کامیاب مرکزی و صوبائی ارکان کے تاریخی اجلاس میں انہوں نے شرکت کی اور اجلاس سے خطاب بھی کیا۔ یہ وہ دور تھا جب پنجاب میں وزارت سازی کے معاملات مسلم لیگ، کانگریس اور اکالی دل کے مابین شدید سیاسی کشمکش کا شکار تھے۔
خضر حیات وزارت کی مخالفت
جب کانگریس، اکالی پارٹی اور یونینسٹ پارٹی نے مل کر ملک خضر حیات ٹوانہ کی وزارت قائم کی، تو چوہدری جہان خان بوسال نے اس ’’غیر فطری اتحاد‘‘ کی کھل کر مخالفت کی۔
انہوں نے نہایت جرأت مندانہ تقریر میں مولانا ابوالکلام آزاد اور ملک خضر حیات ٹوانہ پر مسلم مفادات سے انحراف کا الزام عائد کیا اور اعلان کیا کہ:
“تم سب مل کر بھی مسلم لیگ کے عزائم کو شکست نہیں دے سکتے، فتح ہمیشہ مسلم لیگ ہی کی ہوگی۔”
تاریخ نے ثابت کیا کہ ان کی یہ پیش گوئی درست تھی اور بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
بعد ازاں انتخابات
1957ء کے عام انتخابات میں کامیاب ہو کر ایم این اے منتخب ہوئے۔
بعد ازاں ایک مرتبہ پھر انتخابات میں حصہ لے کر قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل کی۔
شخصیت اور خدمات
چوہدری جہان خان بوسال ایک باوقار، نڈر، غیرت مند اور ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے۔
دیہی نظامِ انصاف (ڈیرہ داری نظام) میں مصالحت اور انصاف کو فروغ دیا
عوامی مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی لی
مسلم لیگ کے نظریے اور قیادت سے غیر متزلزل وابستگی رکھی
وفات
چوہدری جہان خان بوسال 6 فروری 1965ء (بمطابق 4 شوال 1384ھ، بروز ہفتہ) اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی نمازِ جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور انہیں اپنے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.





