حضرت بابا جیون شاہؒ
دور: تقریباً 450 سال قبل
مقامِ قیام: گاؤں کندھوالا، ضلع منڈی بہاؤالدین
خانقاہ: خانقاہ حضرت بابا جیون شاہؒ، کندھوالا
تعارف
حضرت بابا جیون شاہؒ برصغیر کے اُن بزرگ اولیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف روحانی فیوض و برکات سے خطے کو منور کیا بلکہ عملی طور پر دینِ اسلام کی اشاعت اور انسانیت کی خدمت کو اپنا مشن بنایا۔ آپ تقریباً 450 سال قبل گاؤں دھول رانجھا سے ہجرت فرما کر دریائے جہلم کے کنارے ایک جنگلاتی علاقے میں آباد ہوئے، جو آج کندھوالا کے نام سے معروف ہے۔
گاؤں کندھوالا کی بنیاد اور وجۂ تسمیہ
ابتدائی دور میں اس علاقے میں صرف دو گھرانے آباد تھے:
-
ایک ہندو خاندان (جوت)
-
ایک سکھ خاندان (خلاص)
حضرت بابا جیون شاہؒ کی تبلیغ و اخلاق سے یہ دونوں گھرانے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔
گاؤں کے نام کندھوالا سے متعلق ایک مشہور روایت ہے کہ بابا جیؒ نے اپنے خادم کو گھوڑی لانے کا حکم دیا، خادم تاخیر سے آیا تو بابا جیؒ دیوار پر بیٹھ گئے اور دیوار چل پڑی۔ اسی نسبت سے اس بستی کا نام کندھوالا پڑ گیا، جو آج تک معروف ہے۔
روحانی فیوض اور کرامات
حضرت بابا جیون شاہؒ کی خانقاہ خصوصاً جلدی (سکن) بیماریوں کے علاج کے حوالے سے پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ اس نسبت کی بنیاد ایک عظیم کرامت پر ہے:
دہلی سے ایک قاضی موہن لال، بابا جیؒ کی شہرت سن کر حاضر ہوا۔ بابا جیؒ نے فرمایا:
“جہاں کھڑے ہو وہیں رکو اور اپنی ایڑھی زمین پر مارو۔”
جوں ہی ایسا کیا گیا، وہاں سے ایک چشمہ جاری ہو گیا۔ اس چشمے کے پانی سے جلدی بیماریاں دور ہونے لگیں۔ آج بھی وہاں نلکے نصب ہیں اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے لوگ آ کر شفا یاب ہوتے ہیں۔ منڈی بہاؤالدین کے ماہر سکن ڈاکٹرز نے بھی اس پانی کو لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد مفید اور مؤثر قرار دیا ہے۔
معروف تاریخی واقعہ (چک فتح شاہ)
چک فتح شاہ کی بھرو برادری کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے، جس میں اس برادری کے پانچ افراد کو سزائے موت سنائی گئی۔ حضرت بابا جیون شاہؒ نے پیش گوئی فرمائی کہ انہیں سزائے موت نہیں ہوگی، اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔
یہ واقعہ پنجابی مہینے کی 18 تاریخ سے منسوب ہے، اور آج بھی ہر سال اس دن چک فتح شاہ کے لوگ دربار پر حاضری دیتے اور یہ دن عقیدت سے مناتے ہیں۔
موجودہ نظامِ خانقاہ
حضرت بابا جیون شاہؒ کی خانقاہ میں نسل در نسل گیارھویں پیڑھی کے مجاور خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سجادہ نشین:
-
سید منیر حسین شاہ بخاری
زیبِ سجادہ نشین:
-
سید تنظیم الحسن بخاری
حضرت بابا جیون شاہؒ کا دربار روحانیت، شفا، عقیدت اور تاریخ کا مرکز ہے۔ آپ کی تعلیمات، کرامات اور خدمتِ خلق کا تسلسل آج بھی کندھوالا اور گرد و نواح میں زندہ ہے، اور آپ کا آستانہ عقیدت مندوں کے لیے فیض و برکت کا سرچشمہ ہے۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.
