وجاہت سعید خان
پاکستانی–امریکی صحافی | مصنف و دستاویزی فلم ساز | دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار
تعارف
وجاہت سعید خان (پیدائش: 5 نومبر 1978ء) ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مقیم ایک ممتاز پاکستانی–امریکی صحافی، نیوز اینکر، دستاویزی فلم ساز اور سٹریٹجک تجزیہ کار ہیں۔ وہ پاکستان کے صفِ اول کے نشریاتی اداروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا (بشمول این بی سی نیوز، سی این این، اور نکئی ایشیا) میں قومی سلامتی، جیو پولیٹکس اور پاک–افغان تنازعات پر اپنی تہلکہ خیز اور فرنٹ لائن رپورٹنگ کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ وہ ہارورڈ کینیڈی اسکول کے شورنسٹین فیلو منتخب ہونے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ 2015ء سے 2018ء تک دنیا نیوز پر ان کا پرائم ٹائم شو “محاذ“ انتہائی مقبول رہا۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وجاہت سعید خان بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں یوسفزئی پشتون قبیلے کے ایک سرکاری ملازم گھرانے میں پیدا ہوئے۔
-
ابتدائی تعلیم: انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان کے تاریخی تعلیمی ادارے “کراچی گرامر اسکول“ سے حاصل کی، جہاں انہیں اسکول کے میگزین ‘دی گرامیرین‘ کا ایڈیٹر منتخب کیا گیا۔
-
اعلیٰ تعلیم: اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ امریکہ چلے گئے اور “یونیورسٹی آف مشی گن“ سے پولیٹیکل سائنس اور ہسٹری میں گریجویشن کی۔ مشی گن میں دورانِ تعلیم وہ ‘دی مشی گن ڈیلی‘ کے لیے رپورٹنگ کرتے رہے، اور 9/11 حملوں کے بعد افغانستان پر امریکی جارحیت کی کوریج کرنے والے واحد کالیجیٹ (Collegiate) صحافی بنے۔ انہوں نے کلمبیا جرنلزم اسکول، نیویارک سے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔
قومی و بین الاقوامی صحافتی کیریئر
پاکستانی میڈیا: پرویز مشرف کے دور میں الیکٹرانک میڈیا کے فروغ کے بعد وہ پاکستان واپس آئے اور 2003ء سے 2007ء تک جیو نیوز میں کام کیا۔ 2007ء میں انہوں نے ڈان نیوز کی لانچنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈان پر ان کا شو ‘Talk Back’ کافی مقبول ہوا اور انہوں نے عسکری موضوعات پر “We Are Soldiers” نامی دستاویزی سیریز بنائی۔ 2012–2013ء میں انہوں نے آج ٹی وی پر اردو پروگرام “اختلاف“ کیا، اور بعد میں جنگ گروپ میں ‘نیشنل سیکیورٹی ایڈیٹر‘ کے طور پر کام کیا۔ 2015ء میں وہ دنیا نیوز چلے گئے، جہاں ان کی فیلڈ رپورٹنگ سیریز “محاذ“ نے انہیں ملک گیر شہرت بخشی۔
بین الاقوامی میڈیا: انہوں نے این بی سی نیوز (NBC News) کے لیے اسلام آباد، کابل، کھٹمنڈو، لندن اور نیویارک سے بطور پروڈیوسر اور نامہ نگار خدمات انجام دیں۔ 2015ء کے نیپال زلزلے کی رپورٹنگ پر ان کی ٹیم نے ایمی ایوارڈ (Emmy Award) جیتا۔ 2019ء سے 2023ء تک وہ نیویارک میں جاپانی نشریاتی ادارے “نکئی ایشیا” (Nikkei Asia) کے ایڈیٹر اور نامہ نگار رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سی این این (CNN)، دی ٹائمز، اور واشنگٹن ٹائمز کے لیے بھی قلمی خدمات انجام دی ہیں۔
تھنک ٹینکس، تصنیف اور ڈیجیٹل میڈیا
وجاہت سعید خان واشنگٹن کے ممتاز تھنک ٹینک “اٹلانٹک کونسل“ کے ساؤتھ ایشیا سینٹر سے بطور نان ریزیڈنٹ سینئر فیلو وابستہ ہیں۔ وہ “پاک فیوچرز فاؤنڈیشن“ کے بانی اور سی ای او بھی ہیں۔ 2019ء میں انہوں نے ہارپر کولنز کے زیرِ اہتمام نامور پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی کی سوانح عمری “Game Changer: Being Shahid Afridi” مشترکہ طور پر تحریر کی، جو بین الاقوامی سطح پر بیسٹ سیلر ثابت ہوئی۔ آج کل وہ فری لانس صحافی کے طور پر ایک آزاد یوٹیوب چینل اور سب اسٹیک (Substack) نیوز لیٹر کے ذریعے ڈیجیٹل میڈیا پر متحرک ہیں۔
قانونی معاملات اور جلاوطنی
9 مئی 2023ء کے ہنگاموں کے بعد، پاکستانی ریاست کی جانب سے وجاہت سعید خان کے خلاف سخت کارروائیاں شروع ہوئیں۔ 12 جون 2023ء کو اسلام آباد پولیس نے ان پر اور دیگر صحافیوں پر بغاوت پر اکسانے اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے۔ یکم جنوری 2026ء کو اسلام آباد کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے انہیں عدم موجودگی میں بغاوت کے الزامات میں دو مرتبہ مسلسل عمر قید کی سزا سنائی۔ 2025ء کے پاک–بھارت بحران کے دوران پاکستان میں ان کے یوٹیوب چینل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی بلاک کر دیا گیا تھا۔
حوالہ جات
-
ویکیپیڈیا، “وجاہت سعید خان (Wajahat Saeed Khan) کی سوانح حیات اور کیریئر“۔
-
ڈان نیوز، “صحافی شاہین صہبائی اور وجاہت سعید خان کے خلاف 9 مئی کے حوالے سے مقدمات“، 12 جون 2023ء۔
-
دی ایکسپریس ٹریبیون، “سینئر صحافیوں کے خلاف بغاوت اور انسدادِ دہشت گردی کے مقدمات کا اندراج“، 13 جون 2023ء۔
-
جارج ٹاؤن پاکستان پبلک پالیسی کانکلیو، “وجاہت سعید خان کی پروفائل اور ایمی ایوارڈ نامزدگی کی تفصیلات“۔
-
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ)، “پاکستانی صحافیوں پر مقدمات اور آزادیِ صحافت کی صورتحال“۔
-
ہارپر کولنز انڈیا، “گیم چینجر: شاہد آفریدی کی سوانح عمری (مصنفین: شاہد آفریدی، وجاہت سعید خان)”، 2019ء۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.





