Profile
نام: جسٹس چوہدری مشتاق احمد
عہدہ: جج، لاہور ہائی کورٹ
تقرر کی تاریخ: 7 نومبر 2014
پیدائش: 7 اپریل 1959
آبائی گاؤں: ہیڈ فقیریاں، تحصیل ملکوال، ضلع منڈی بہاءالدین، پنجاب، پاکستان
قومیت: پاکستانی
تعلیم:
گورنمنٹ ہائی اسکول مونا، منڈی بہاءالدین (میٹرک)
گورنمنٹ ڈگری کالج بھلوال (F.A – 1976)
گورنمنٹ ڈگری کالج سرگودھا (B.A – 1978)
فیڈرل لا کالج اسلام آباد، یونیورسٹی آف پنجاب سے ایل ایل بی (1984)
جسٹس چوہدری مشتاق احمد کا تعلق ضلع منڈی بہاءالدین کے گاؤں ہیڈ فقیریاں سے ہے۔ وہ پاکستان کی عدالتی دنیا کی ایک معزز شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی دیانت، قانونی فہم، اور جرات مندانہ فیصلوں کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا۔
انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز 1985 میں بطور ایڈووکیٹ کیا اور راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے رکن بنے۔ 1987 میں لاہور ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی اور 1999 میں انہیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر ترقی دی گئی۔
ملتان، اوکاڑہ، دیپالپور، سرگودھا، نارووال، بہاولپور، راجن پور، گوجرانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ننکانہ صاحب جیسے اضلاع میں خدمات انجام دینے کے بعد، انہیں 7 نومبر 2014 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ترقی دی گئی۔
دسمبر 2019 میں جسٹس چوہدری مشتاق احمد نے ایک تاریخی اور جرات مندانہ فیصلہ دیا — رانا ثناءاللہ کیس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انہوں نے انصاف، غیر جانبداری، اور قانون کی برتری کا مظاہرہ کیا۔
ان کے فیصلے میں سیاسی دباؤ کے باوجود حقائق پر مبنی قانونی دلائل کو فوقیت دی گئی، جس سے ان کی عدالتی بصیرت اور کردار کی مضبوطی نمایاں ہوئی۔
ایڈووکیٹ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی (1985–1987)
ایڈووکیٹ، لاہور ہائی کورٹ (1987–1998)
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (1999–2007)
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (2007–2014)
جج، لاہور ہائی کورٹ (2014 تا حال)
گاؤں ہیڈ فقیریاں، تحصیل ملکوال، ضلع منڈی بہاءالدین — جہاں سے انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور آج اسی علاقے کے لیے فخر کا باعث ہیں۔
چوہدری مشتاق احمد کو عدالتی برادری میں ایک بااصول، دیانتدار اور غیر جانبدار جج کے طور پر پہچانا جاتا ہے، جو قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے کھڑے رہتے ہیں۔
Map
Loading…
No Records Found
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Maps failed to load
Sorry, unable to load the Maps API.

