اعظم نذیر تارڑ
عہدہ: وفاقی وزیر قانون و انصاف، حکومتِ پاکستان (11 مارچ 2024 تا حال)
سیاسی حیثیت: سینیٹر، ایوانِ بالا (سینیٹ آف پاکستان) منتخب از پنجاب (مارچ 2021)
تعارف
اعظم نذیر تارڑ پاکستان کے ممتاز قانون دان، آئینی ماہر اور سینئر سیاست دان ہیں۔ وہ اپنی قانونی بصیرت، پارلیمانی تجربے اور بار کونسل اصلاحات میں قائدانہ کردار کے باعث ایک مضبوط اور باوقار شناخت رکھتے ہیں۔ قانون و انصاف کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے وہ آئینی بالادستی، عدالتی اصلاحات اور قانونی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
اعظم نذیر تارڑ کا تعلق تارڑ خاندان سے ہے اور ان کی خاندانی جڑیں ضلع حافظ آباد، پنجاب میں ہیں۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم حافظ آباد سے حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی جہاں وہ طلبہ سیاست اور دو لسانی مباحثوں (اردو و انگریزی) میں نمایاں رہے۔
تعلیمی قابلیت:
ایل ایل بی – پنجاب یونیورسٹی لا کالج (1992)
ایل ایل ایم – یونیورسٹی آف ایڈنبرا، برطانیہ (1994)
قانونی خدمات
اعظم نذیر تارڑ نے 1995 میں بطور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور 2006 میں بطور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان وکالت کا آغاز کیا۔ وہ ملک کے صفِ اول کے فوجداری اور آئینی ماہرینِ قانون میں شمار ہوتے ہیں۔
نمایاں قانونی کردار:
متعدد اہم آئینی و فوجداری مقدمات میں وکالت
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں بطور Amicus Curiae خدمات
کئی فیصلوں میں ان کے دلائل بطور حوالہ شامل
بار کونسل خدمات:
سیکرٹری، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (2004)
رکن، پاکستان بار کونسل (2010 تا حال)
وائس چیئرمین، پاکستان بار کونسل (2015)
چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی، پاکستان بار کونسل
بطور چیئرمین لیگل ایجوکیشن کمیٹی، انہوں نے پانچ سالہ ایل ایل بی پروگرام کے نفاذ سمیت قانونی تعلیم میں بنیادی اصلاحات متعارف کروائیں۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی مختلف بین الاقوامی قانونی فورمز پر بھی کی۔
سیاسی خدمات
لیڈر آف دی ہاؤس، سینیٹ آف پاکستان
(20 اپریل 2022 تا 30 ستمبر 2022)
وفاقی وزیر قانون و انصاف
(پہلی مدت: 2022)
(موجودہ مدت: 11 مارچ 2024 تا حال)
اکتوبر 2022 میں انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیا جو بعد ازاں وزیراعظم کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔
قانون سازی میں کردار
2023 میں اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 پیش کیا، جو 10 اپریل 2023 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور ہوا۔ یہ قانون عدالتی طریقہ کار میں شفافیت اور ادارہ جاتی توازن کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔
امتیازی پہلو
آئینی قانون میں گہری مہارت
بار کونسل اور قانونی تعلیم میں اصلاحاتی کردار
پارلیمانی امور اور قانون سازی کا وسیع تجربہ
قومی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی نمائندگی
اعظم نذیر تارڑ پاکستان کے ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جو قانون، سیاست اور ادارہ جاتی اصلاحات کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں وزارتِ قانون و انصاف سے ایک مؤثر، متوازن اور آئین دوست کردار کی توقع کی جاتی ہے۔
Loading…
No Records Found
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Maps failed to load
Sorry, unable to load the Maps API.






