محمد سہیل خان آفریدی
سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا | سیاسی رہنما | پاکستان تحریکِ انصاف (PTI)
تعارف
محمد سہیل خان آفریدی پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے ایک ممتاز، نوجوان اور متحرک سیاسی رہنما ہیں، جنہوں نے 15 اکتوبر 2025ء سے 11 اکتوبر 2026ء تک صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ فروری 2024ء کے عام انتخابات میں وہ حلقہ PK-70 (خیبر-II) سے پہلی بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ سہیل خان آفریدی کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دو منفرد اعزاز حاصل ہیں: وہ ملکی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیرِ اعلیٰ بنے اور سابقہ قبائلی اضلاع (فاٹا) سے اس اعلیٰ ترین صوبائی منصب تک پہنچنے والے پہلے فرد تھے۔ وفاقی حکومت کے ساتھ شدید سیاسی تناؤ اور صوبے میں ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کے بعد 11 اکتوبر 2026ء کو ان کی وزارتِ اعلیٰ کا اختتام ہوا اور انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
ابتدائی زندگی، تعلیم اور خاندانی پس منظر
سہیل خان آفریدی 12 جولائی 1989ء کو خیبر پختونخوا (سابقہ فاٹا) کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متوسط پختون گھرانے سے ہے اور وہ قبیلہ آفریدی (شلوبر) سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مسلم پبلک اسکول پشاور سے حاصل کی اور ایف سی گورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ اس کے بعد انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے معاشیات (Economics) میں بی ایس (BS) کی ڈگری مکمل کی۔ عملی سیاست میں باقاعدہ قدم رکھنے سے قبل وہ پراپرٹی کے کاروبار (Property Business) سے وابستہ تھے۔
ابتدائی سیاسی کیریئر اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ISF)
سہیل خان آفریدی کی سیاسی جدوجہد کا آغاز پشاور یونیورسٹی کے طالب علمی کے دور سے ہوا، جب انہوں نے 2015ء میں پی ٹی آئی کے یوتھ ونگ “انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن” (ISF) میں شمولیت اختیار کی۔ اسی سال وہ یونیورسٹی کیمپس میں ISF کے صدر منتخب ہوئے اور اپنی تنظیمی صلاحیتوں کی بدولت وہ 2017ء میں پشاور ریجن کے صدر اور پھر ISF خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر بن گئے۔ 9 مئی 2023ء کے ہنگاموں کے بعد، جب پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت روپوش تھی، سہیل آفریدی نے گراؤنڈ پر پارٹی ورکرز سے اپنا مؤثر رابطہ برقرار رکھا۔
انتخابی کامیابی اور کابینہ میں شمولیت
فروری 2024ء کے انتخابات میں سہیل آفریدی نے حلقہ PK-70 (خیبر-II) سے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا اور 31,669 ووٹ حاصل کر کے شاندار کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کے بعد انہیں علی امین گنڈاپور کی کابینہ میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کا معاونِ خصوصی مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں، کابینہ میں ردوبدل کے دوران انہیں ترقی دے کر اعلیٰ تعلیم کا صوبائی وزیر بنا دیا گیا۔
بطور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا (2025ء – 2026ء)
8 اکتوبر 2025ء کو علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کے بعد، عمران خان کی نامزدگی پر سہیل آفریدی کو صوبے کا نیا وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ 13 اکتوبر 2025ء کو انہوں نے صوبائی اسمبلی میں 90 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی اور 15 اکتوبر 2025ء کو پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر حلف اٹھایا۔ بطور وزیرِ اعلیٰ، انہوں نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن کی بحالی کو ترجیح دی اور نومبر 2025ء میں “خیبر پختونخوا گرینڈ پیس جرگہ“ منعقد کرایا۔ انہوں نے دیر لوئر میں 40.8 میگاواٹ کے ‘کوتو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ‘ کا افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے وفاق کی جانب سے فوجی آپریشنز کی مخالفت کی اور پائیدار امن کے لیے عمران خان کی پالیسیوں کو ناگزیر قرار دیا۔
وفاق کے ساتھ سیاسی تناؤ، ایمرجنسی اور گورنر راج (اکتوبر 2026ء)
اکتوبر 2026ء میں سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور وفاق سے مذاکرات کے لیے لکی مروت سے اسلام آباد تک “پی ٹی آئی لانگ مارچ“ کا اعلان کیا۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر، وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر 2026ء کو آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ وفاق کا موقف تھا کہ صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے اور وفاق سے تعاون میں ناکام رہی ہے۔
گرفتاری
گورنر راج کے نفاذ اور صوبائی حکومت کے اختیارات معطل ہونے کے فوری بعد، سیکورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے پشاور سے وزیرِ اعلیٰ سہیل خان آفریدی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جنید اکبر کو حراست میں لے لیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس گرفتاری کو ‘اغوا‘ قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی کال دی گئی۔
حوالہ جات
-
^ صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کا سرکاری ریکارڈ، “ممبرز ڈائریکٹری: محمد سہیل خان آفریدی (PK-70 خیبر-II)”، پشاور، 2024ء۔
-
^ الیکشن کمیشن آف پاکستان، “عام انتخابات 2024ء کے سرکاری و حتمی نتائج برائے صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا“، اسلام آباد۔
-
^ قومی اخبارات و نیوز ایجنسیاں، “سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب اور پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر حلف برداری“، 15 اکتوبر 2025ء۔
-
^ وفاقی کابینہ و ایوانِ صدر کا سرکاری اعلامیہ، “خیبر پختونخوا میں آئینی اختیارات کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ“، 11 اکتوبر 2026ء۔
-
^ قومی و بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، “گورنر راج کے نفاذ کے بعد سابق وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی حراست“، پشاور، 11 اکتوبر 2026ء۔
-
^ فائنڈورا ڈائریکٹری ریسرچ پورٹل، “پولیٹیکل پروفائل ڈیٹا بیس: محمد سہیل خان آفریدی“، اپ ڈیٹ شدہ اکتوبر 2026ء۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.





