Profile
کولو تارڑ
تاریخ، سیاست، ثقافت اور سماجی عظمت کا آئینہ
ضلع حافظ آباد کا نواحی قصبہ کولو تارڑ اپنی تاریخی، سیاسی، سماجی، زرعی اور ثقافتی اہمیت کے باعث پنجاب بھر میں منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہ قصبہ تحصیل حافظ آباد میں واقع ہے اور انتظامی طور پر یونین کونسل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی قدیم روایات، سیاسی اثر و رسوخ، زرعی خوشحالی، علمی و ادبی خدمات اور سماجی شعور کے باعث کولو تارڑ ضلع حافظ آباد کے نمایاں علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
جغرافیائی محل وقوع
کولو تارڑ شہر حافظ آباد کے قریب واقع ایک زرخیز اور اہم آبادی ہے۔ اس کے اردگرد سرسبز کھیت، نہری نظام اور دیہی بستیاں موجود ہیں۔ ضلع حافظ آباد چونکہ چاول کی پیداوار کے حوالے سے پورے پاکستان میں شہرت رکھتا ہے، اس لیے کولو تارڑ بھی زرعی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی زمین نہایت زرخیز ہے اور جدید زرعی نظام نے اس علاقے کی معیشت کو مزید مستحکم بنایا ہے۔
نام کی وجہ تسمیہ
کولو تارڑ کے نام کے حوالے سے مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق اس بستی کی بنیاد مسمیٰ “کولو” قوم تارڑ نے موضع سیدہ، علاقہ گجرات، موجودہ ضلع منڈی بہاؤالدین سے ہجرت کر کے بکنارہ نالہ وگھ کے قریب بطور خانہ بدوش سکونت اختیار کرتے ہوئے رکھی۔ ابتدا میں انہوں نے مستعار زمین حاصل کر کے کاشتکاری شروع کی۔
رفتہ رفتہ دیگر زمیندار اور ضرورت مند لوگ بھی ان کے پاس آ کر آباد ہوتے گئے۔ روایت کے مطابق ایک موقع پر کولو کی زمینداران احمد پور کے ساتھ شدید لڑائی ہو گئی جس میں دو تین افراد قتل ہوئے۔ اس واقعہ کے نتیجے میں کولو، اس کے چھ بیٹوں کو پھانسی دے دی گئی اور بستی ویران ہو گئی۔
صرف مسمات رامدائی جو اس وقت کولو کی حاملہ تھیں، زندہ بچ سکیں۔ خوف کے باعث وہ جنگل کی طرف نکل گئیں جہاں ایک درویش صفت فقیر نے ان پر رحم کرتے ہوئے پیش گوئی کی کہ ان کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ صاحبِ اقبال ہوگا۔ فقیر نے ہدایت کی کہ بچے کو مسلمان بنا کر اسلامی نام دیا جائے۔
بعد ازاں جب لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام “مرزا” رکھا گیا اور اسے مسلمان کر دیا گیا۔ مرزا جوان ہو کر بااثر، باحوصلہ اور مدبر شخصیت کے مالک بنے۔ انہیں بادشاہِ وقت کے دربار تک رسائی حاصل ہوئی اور بادشاہ نے ملوکہ قوم تارڑ کے چالیس دیہات کا انہیں مقدم اور چوہدری مقرر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے دوبارہ اس قصبے کو آباد کیا اور اس کا نام “کولو تارڑ” رکھا، جو آج تک اسی نام سے آباد ہے۔
یہاں تارڑ برادری کی اکثریت آباد ہے جبکہ دیگر برادریاں بھی برسوں سے محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ رہ رہی ہیں۔
عہدِ اکبری میں یہاں دو ہندو فقیر، ہرگوبنداس اور سمبرنداس بیراگی، اپنی عبادت و ریاضت کے باعث مشہور تھے۔ ان کی سمادھی آج بھی اس علاقے میں موجود ہیں جو اس خطے کی قدیم روحانی تاریخ کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
رفتہ رفتہ دیگر زمیندار اور ضرورت مند لوگ بھی ان کے پاس آ کر آباد ہوتے گئے۔ روایت کے مطابق ایک موقع پر کولو کی زمینداران احمد پور کے ساتھ شدید لڑائی ہو گئی جس میں دو تین افراد قتل ہوئے۔ اس واقعہ کے نتیجے میں کولو، اس کے چھ بیٹوں کو پھانسی دے دی گئی اور بستی ویران ہو گئی۔
صرف مسمات رامدائی جو اس وقت کولو کی حاملہ تھیں، زندہ بچ سکیں۔ خوف کے باعث وہ جنگل کی طرف نکل گئیں جہاں ایک درویش صفت فقیر نے ان پر رحم کرتے ہوئے پیش گوئی کی کہ ان کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ صاحبِ اقبال ہوگا۔ فقیر نے ہدایت کی کہ بچے کو مسلمان بنا کر اسلامی نام دیا جائے۔
بعد ازاں جب لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام “مرزا” رکھا گیا اور اسے مسلمان کر دیا گیا۔ مرزا جوان ہو کر بااثر، باحوصلہ اور مدبر شخصیت کے مالک بنے۔ انہیں بادشاہِ وقت کے دربار تک رسائی حاصل ہوئی اور بادشاہ نے ملوکہ قوم تارڑ کے چالیس دیہات کا انہیں مقدم اور چوہدری مقرر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے دوبارہ اس قصبے کو آباد کیا اور اس کا نام “کولو تارڑ” رکھا، جو آج تک اسی نام سے آباد ہے۔
یہاں تارڑ برادری کی اکثریت آباد ہے جبکہ دیگر برادریاں بھی برسوں سے محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ رہ رہی ہیں۔
عہدِ اکبری میں یہاں دو ہندو فقیر، ہرگوبنداس اور سمبرنداس بیراگی، اپنی عبادت و ریاضت کے باعث مشہور تھے۔ ان کی سمادھی آج بھی اس علاقے میں موجود ہیں جو اس خطے کی قدیم روحانی تاریخ کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
تاریخی پس منظر
کولو تارڑ ایک قدیم دیہی آبادی ہے جس کی تاریخ تقسیم ہند سے بھی پہلے کی ہے۔ برطانوی دور میں یہ علاقہ سیاسی اور تجارتی لحاظ سے اہم سمجھا جاتا تھا۔ یہاں کے کئی خاندان برصغیر کے مختلف شہروں خصوصاً کلکتہ، پٹنہ اور دیگر تجارتی مراکز میں کاروبار کرتے تھے۔ خاص طور پر چمڑے کی تجارت میں کولو تارڑ کے شیخ خاندانوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
قیام پاکستان کے بعد یہاں کے کئی کاروباری خاندان لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے صنعت و تجارت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ لاہور کی مشہور برانڈرتھ روڈ کی تجارت میں بھی کولو تارڑ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں نے اہم کردار ادا کیا۔
قیام پاکستان کے بعد یہاں کے کئی کاروباری خاندان لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے صنعت و تجارت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ لاہور کی مشہور برانڈرتھ روڈ کی تجارت میں بھی کولو تارڑ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں نے اہم کردار ادا کیا۔
سیاسی اہمیت
ضلع حافظ آباد کی سیاست میں کولو تارڑ ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا آیا ہے اور کئی دہائیوں سے یہ علاقہ سیاسی سرگرمیوں کا محور رہا ہے۔
متحدہ ہندوستان کے دور میں میاں عطاء اللہ تارڑ بطور ایم ایل اے خدمات سرانجام دیتے رہے اور انہیں برطانوی حکومت کی جانب سے “آنریبل” کا خطاب بھی ملا۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے میاں سیف اللہ تارڑ ممبر اسمبلی اور ممبر مجلس شوریٰ رہے۔
بعد ازاں میاں جعفر خان تارڑ جونیجو لیگ کے ضلعی صدر رہے اور انہوں نے الیکشن میں بھی حصہ لیا۔ ان کے صاحبزادے مامون جعفر تارڑ ناظم یونین کونسل، چیئرمین یونین کونسل، ممبر صوبائی اسمبلی، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اور چیئرمین ٹیوٹا جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔
اسی طرح سابق چیئرمین ضلع کونسل گوجرانوالہ و حافظ آباد، سابق رکن قومی اسمبلی اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری چوہدری افضل حسین تارڑ نے قومی اور مقامی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔
بعد ازاں سائرہ افضل تارڑ قومی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ وہ وفاقی وزیر صحت رہیں، صدارتی ایوارڈ حاصل کیا، وزیراعلیٰ پنجاب کی ٹاسک فورس برائے ایجوکیشن کی چیئرپرسن رہیں جبکہ بعد میں پاپولیشن ویلفیئر کی چیئرپرسن بھی مقرر ہوئیں۔
سیاسی شخصیات میں میاں ممتاز حسین تارڑ سابق چیئرمین ضلع کونسل حافظ آباد، چوہدری امان اللہ تارڑ کئی مرتبہ چیئرمین یونین کونسل، جبکہ ان کے صاحبزادے میاں محمد نعمان تارڑ نائب ناظم تحصیل کونسل رہے۔
اسی طرح بریگیڈیئر محمد عثمان تارڑ نے قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا جبکہ سماجی خدمات کے میدان میں ڈاکٹر عالیہ عثمان تارڑ کا نام نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔
متحدہ ہندوستان کے دور میں میاں عطاء اللہ تارڑ بطور ایم ایل اے خدمات سرانجام دیتے رہے اور انہیں برطانوی حکومت کی جانب سے “آنریبل” کا خطاب بھی ملا۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے میاں سیف اللہ تارڑ ممبر اسمبلی اور ممبر مجلس شوریٰ رہے۔
بعد ازاں میاں جعفر خان تارڑ جونیجو لیگ کے ضلعی صدر رہے اور انہوں نے الیکشن میں بھی حصہ لیا۔ ان کے صاحبزادے مامون جعفر تارڑ ناظم یونین کونسل، چیئرمین یونین کونسل، ممبر صوبائی اسمبلی، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اور چیئرمین ٹیوٹا جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔
اسی طرح سابق چیئرمین ضلع کونسل گوجرانوالہ و حافظ آباد، سابق رکن قومی اسمبلی اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری چوہدری افضل حسین تارڑ نے قومی اور مقامی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔
بعد ازاں سائرہ افضل تارڑ قومی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ وہ وفاقی وزیر صحت رہیں، صدارتی ایوارڈ حاصل کیا، وزیراعلیٰ پنجاب کی ٹاسک فورس برائے ایجوکیشن کی چیئرپرسن رہیں جبکہ بعد میں پاپولیشن ویلفیئر کی چیئرپرسن بھی مقرر ہوئیں۔
سیاسی شخصیات میں میاں ممتاز حسین تارڑ سابق چیئرمین ضلع کونسل حافظ آباد، چوہدری امان اللہ تارڑ کئی مرتبہ چیئرمین یونین کونسل، جبکہ ان کے صاحبزادے میاں محمد نعمان تارڑ نائب ناظم تحصیل کونسل رہے۔
اسی طرح بریگیڈیئر محمد عثمان تارڑ نے قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا جبکہ سماجی خدمات کے میدان میں ڈاکٹر عالیہ عثمان تارڑ کا نام نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔
علمی، ادبی اور صحافتی خدمات
کولو تارڑ علمی و ادبی شخصیات کے حوالے سے بھی ممتاز مقام رکھتا ہے۔
مرحوم حافظ نزیر احمد قادری نے سیرتِ مصطفیٰ ﷺ پر گراں قدر کام کیا جبکہ مرحوم عارف سہارنی دس کتابوں کے مصنف تھے۔
شعری میدان میں ریاست علی راحت صاحبِ کتاب شاعر ہیں جبکہ طارق نسیم کا شمار بھی نمایاں شعراء میں ہوتا ہے۔
صحافت کے میدان میں گلزار حسین چوہان ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ ضلع کے پہلے مقامی روزنامہ منزل مراد کے بانی اور ضلع کے پہلے ویب چینل ایم ایم نیوز کے سی ای او ہیں۔ وہ کئی مقامی و قومی اخبارات اور چینلز سے وابستہ رہے جبکہ اس وقت صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب حافظ آباد کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اپنی دبنگ اور بے باک صحافت کے باعث وہ ضلع بھر میں منفرد پہچان رکھتے ہیں۔
دیگر مقامی صحافیوں میں حافظ عمر حیات، سفیان گل، حافظ ساجد بلال، راؤف عابد، ادریس گکھڑ کیانی اور انعام گورائیہ شامل ہیں۔
مرحوم حافظ نزیر احمد قادری نے سیرتِ مصطفیٰ ﷺ پر گراں قدر کام کیا جبکہ مرحوم عارف سہارنی دس کتابوں کے مصنف تھے۔
شعری میدان میں ریاست علی راحت صاحبِ کتاب شاعر ہیں جبکہ طارق نسیم کا شمار بھی نمایاں شعراء میں ہوتا ہے۔
صحافت کے میدان میں گلزار حسین چوہان ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ ضلع کے پہلے مقامی روزنامہ منزل مراد کے بانی اور ضلع کے پہلے ویب چینل ایم ایم نیوز کے سی ای او ہیں۔ وہ کئی مقامی و قومی اخبارات اور چینلز سے وابستہ رہے جبکہ اس وقت صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب حافظ آباد کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اپنی دبنگ اور بے باک صحافت کے باعث وہ ضلع بھر میں منفرد پہچان رکھتے ہیں۔
دیگر مقامی صحافیوں میں حافظ عمر حیات، سفیان گل، حافظ ساجد بلال، راؤف عابد، ادریس گکھڑ کیانی اور انعام گورائیہ شامل ہیں۔
مذہبی و روحانی شخصیات
کولو تارڑ مذہبی اور روحانی شخصیات کے حوالے سے بھی ممتاز مقام رکھتا ہے۔ ان شخصیات میں میاں غلام احمد وسیر حضوری، سید شیر شاہ، سید شاہسوار، شاہ محبت، حافظ رحمت اللہ، مولانا محمد حسین، مولانا منیر احمد اور مولانا اللہ یار شامل ہیں۔
موجودہ دور میں حافظ شبیر احمد قادری اور عالمی شہرت یافتہ سائنس دان ڈاکٹر اورنگزیب حافی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
موجودہ دور میں حافظ شبیر احمد قادری اور عالمی شہرت یافتہ سائنس دان ڈاکٹر اورنگزیب حافی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
سماجی و کاروباری شخصیات
سماجی و کاروباری ودیگر میدان میں وقاص احمد تارڑ، مہر خادم حسین، محمد قاسم تارڑ، رضا بشیر چٹھہ ایڈووکیٹ، طارق خورشید، سید غلام شبیر بخاری، بلال فیروز جوئیہ، مرتضیٰ جوئیہ ایڈووکیٹ ،خضر حیات گل ،ملک عثمان ایڈووکیٹ ،محمد حسین ریحان ،ماسٹر مشتاق احمد ،ناصر میکن ،مستری فاروق،نمایاں ناموں میں شامل ہیں۔
اسی طرح نعمان ارشد نے قومی اور ایشین گیمز میں طلائی تمغہ حاصل کر کے علاقے کا نام روشن کیا۔
اسی طرح نعمان ارشد نے قومی اور ایشین گیمز میں طلائی تمغہ حاصل کر کے علاقے کا نام روشن کیا۔
سماجی و ثقافتی زندگی
کولو تارڑ کی ثقافت خالص پنجابی دیہی روایات کی عکاس ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز، محنتی اور اپنی روایات سے گہرا لگاؤ رکھنے والے ہیں۔ شادی بیاہ، میلوں، مذہبی اجتماعات اور دیگر سماجی تقریبات میں آج بھی روایتی پنجابی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔
یہاں پنجابی زبان عام بول چال میں استعمال ہوتی ہے جبکہ اردو بھی بخوبی سمجھی اور بولی جاتی ہے۔
یہاں پنجابی زبان عام بول چال میں استعمال ہوتی ہے جبکہ اردو بھی بخوبی سمجھی اور بولی جاتی ہے۔
معیشت
کولو تارڑ کی معیشت کا بڑا دارومدار زراعت پر ہے۔ گندم، چاول، مکئی اور چارہ یہاں کی اہم فصلیں ہیں۔ کمبائن ہارویسٹر کے شعبے سے بھی بڑی تعداد میں لوگ وابستہ ہیں۔
علاوہ ازیں کئی افراد “سموسہ پٹی” کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ملک کے مختلف شہروں میں یہ صنعت کامیابی سے چلا رہے ہیں۔
جدید زرعی مشینری، نہری پانی اور محنتی کسانوں نے اس علاقے کو زرعی لحاظ سے مستحکم بنایا ہے جبکہ مویشی پالنا بھی دیہی معیشت کا اہم حصہ ہے۔
علاوہ ازیں کئی افراد “سموسہ پٹی” کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ملک کے مختلف شہروں میں یہ صنعت کامیابی سے چلا رہے ہیں۔
جدید زرعی مشینری، نہری پانی اور محنتی کسانوں نے اس علاقے کو زرعی لحاظ سے مستحکم بنایا ہے جبکہ مویشی پالنا بھی دیہی معیشت کا اہم حصہ ہے۔
تعلیم اور سماجی ترقی
گزشتہ چند دہائیوں میں کولو تارڑ میں تعلیم کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں جبکہ نوجوان نسل اعلیٰ تعلیم کی جانب تیزی سے راغب ہو رہی ہے۔
بیرون ملک مقیم افراد بھی اپنے گاؤں کی ترقی، فلاح و بہبود اور تعلیمی منصوبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
بیرون ملک مقیم افراد بھی اپنے گاؤں کی ترقی، فلاح و بہبود اور تعلیمی منصوبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
کھیلوں کا رجحان
کولو تارڑ میں کھیلوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ والی بال، کبڈی، بیڈمنٹن اور کرکٹ یہاں کے مقبول ترین کھیل ہیں۔ نوجوان نسل کھیلوں میں بھرپور دلچسپی رکھتی ہے اور مختلف مقامی ٹورنامنٹس میں سرگرمی سے حصہ لیتی ہے۔
موجودہ دور میں کولو تارڑ
آج کولو تارڑ جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ سڑکوں، تعلیم، مواصلات اور سیاسی شعور میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ سوشل میڈیا اور بیرون ملک مقیم افراد کے ذریعے اس قصبے کی شناخت مزید وسیع ہوئی ہے۔
الغرض، کولو تارڑ صرف ایک قصبہ نہیں بلکہ ضلع حافظ آباد کی تاریخ، سیاست، تجارت، ثقافت اور سماجی شعور کا ایک روشن باب ہے۔ یہ بستی اپنے لوگوں کی محنت، سیاسی بصیرت، زرعی خوشحالی، علمی خدمات اور تاریخی پس منظر کے باعث پنجاب کے ممتاز دیہی علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔
اگر یہاں مزید تعلیمی، صنعتی اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ دی جائے تو کولو تارڑ مستقبل میں مزید ترقی یافتہ اور نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
الغرض، کولو تارڑ صرف ایک قصبہ نہیں بلکہ ضلع حافظ آباد کی تاریخ، سیاست، تجارت، ثقافت اور سماجی شعور کا ایک روشن باب ہے۔ یہ بستی اپنے لوگوں کی محنت، سیاسی بصیرت، زرعی خوشحالی، علمی خدمات اور تاریخی پس منظر کے باعث پنجاب کے ممتاز دیہی علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔
اگر یہاں مزید تعلیمی، صنعتی اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ دی جائے تو کولو تارڑ مستقبل میں مزید ترقی یافتہ اور نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
Map
Loading…
No Records Found
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Maps failed to load
Sorry, unable to load the Maps API.


