Profile
جاوید حیاتؔ
خاموش لہجے کا درویش شاعر
جاوید حیاتؔ ضلع حافظ آباد کی ادبی تاریخ کا ایک معتبر، باوقار اور درویش صفت نام ہیں، جنہوں نے شہرت کی دوڑ سے دور رہتے ہوئے اپنی پوری زندگی ادب، انسان دوستی اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ نہ صرف ایک صاحبِ طرز شاعر تھے بلکہ ایک شفیق معالج، مخلص دوست اور ادب دوست شخصیت کے طور پر بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
ابتدائی زندگی
جاوید حیاتؔ 1935ء میں ضلع حافظ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق اس نسل سے تھا جس نے اردو ادب کے بڑے ناموں کو قریب سے دیکھا اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کیا۔ انہیں معروف شاعر احسان دانشؔ کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا، جس نے ان کی شعری شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔
استاد سے اپنی عقیدت کا اظہار انہوں نے اپنے شعری مجموعے چاندنی کے سائے میں یوں کیا:
یہ فیض حضرت دانشؔ سخن وری ہے حیاتؔ
خیالِ شیخ کی صورت یہ مالِ خام نہیں
ادبی وابستگیاں
جاوید حیاتؔ کے علمی و ادبی روابط اپنے عہد کی کئی ممتاز شخصیات سے رہے۔ ان میں خصوصاً:
- احمد ندیم قاسمی
- شہباز احمد
- احمد فراز
- منیر نیازی
جیسے نامور شعرا شامل تھے۔
ان کے معاصرین کے مطابق جاوید حیاتؔ میں نام و نمود کی خواہش کم اور تخلیقی یکسوئی زیادہ تھی۔ وہ ادب کو خدمت سمجھتے تھے، ذریعۂ شہرت نہیں۔
پیشہ ورانہ زندگی
جاوید حیاتؔ پیشے کے اعتبار سے طبِ مشرقی (حکمت) سے وابستہ تھے۔ حافظ آباد میں ان کا مطب صرف علاج گاہ نہیں بلکہ ایک ادبی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا جہاں شعرا، ادبا، صحافی، اساتذہ اور اہلِ علم جمع ہوتے تھے۔
ان کی انسان دوستی کا یہ عالم تھا کہ روزمرہ اخراجات پورے ہونے کے بعد وہ اکثر مریضوں سے فیس وصول کرنا بند کر دیتے تھے۔ ان کے نزدیک علاج عبادت اور خدمتِ خلق کا ذریعہ تھا۔
شعری اسلوب
جاوید حیاتؔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، تاہم انہوں نے نظم، گیت اور رباعی میں بھی طبع آزمائی کی۔
ان کی شاعری کے نمایاں موضوعات:
عشق و جمال
محبوب کے حسن اور جمالیاتی احساسات ان کے ہاں نہایت لطیف انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں:
گلاب چہرہ، سرو قد، شراب سی آنکھیں
مرے خدا نے عطا کیں بلاغتیں کیسی
اور:
خوبرو وہ کہیں اس سے بھی زیادہ نکلا
میں نے جو سوچ رکھا تھا کہ وہ ایسا ہوگا
پنجاب کی تہذیبی روایت
پنجاب کی لوک داستانوں اور عشقیہ روایتوں نے ان کے شعری شعور پر گہرا اثر ڈالا:
لگائی آگ کھیڑوں نے تو کیدو بن گئے سارے
مرا بیلہ نہیں ملتا، مرا رانجھن نہیں ملتا
فطرت نگاری
جاوید حیاتؔ کے ہاں فطرت محض منظر نہیں بلکہ شعور اور آگہی کی علامت ہے:
زینتِ کون و مکاں ہیں پھول تتلی جگنو چاند
فطرتوں کے ترجماں ہیں پھول تتلی جگنو چاند
اور:
آپ کو عرفان نہیں تو کیا کریں اس کا علاج
آگہی کی داستاں ہیں پھول تتلی جگنو چاند
انسانی دکھ اور تنہائی
ان کی شاعری میں انسانی دکھ، تنہائی اور سماجی احساس بھی بھرپور انداز میں موجود ہے:
چھلک اٹھتی ہیں مری آنکھیں خدا جانے کیوں
جب بھی آندھی میں کوئی پیر اکیلا دیکھوں
یہ شعر ان کی حساس طبیعت اور انسان دوست فکر کا بہترین مظہر ہے۔
رجائیت اور امید
اگرچہ ان کے ہاں کرب اور اداسی کے رنگ موجود ہیں، لیکن ان کی شاعری مایوسی نہیں بلکہ امید کا پیغام دیتی ہے:
مجھے مدتوں سے امید تھی کہ ہنسے چمن میں کلی کلی
جو ملی نویدِ بہار کی تو چمن کو تو نے جلا دیا
تصانیف
جاوید حیاتؔ کے دو اہم شعری مجموعے شائع ہوئے:
جمالِ خاک
- اشاعت: 2001ء
چاندنی کے سائے
- اشاعت: 2004ء
ان کے غیر مطبوعہ کلام کا ایک بڑا حصہ ضائع ہوگیا، جو اردو ادب کا نقصان تصور کیا جاتا ہے۔
وفات اور ادبی ورثہ
جاوید حیاتؔ 2012ء میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے۔ ان کا کلام حافظ آباد اور پنجاب کے ادبی ورثے کا اہم حصہ ہے۔ وہ ان تخلیق کاروں میں شامل ہیں جنہوں نے خاموشی سے ادب کی خدمت کی اور اپنے کردار، اخلاص اور فن کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔
جاوید حیاتؔ کی شخصیت تین حوالوں سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے:
- احسان دانشؔ کے ممتاز شاگرد۔
- حافظ آباد کی ادبی روایت کے اہم نمائندہ شاعر۔
- انسان دوستی، درویشی اور خالص ادبی وابستگی کی علامت۔
ان کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ:
شاعر مر نہیں جاتے، وہ اپنے لفظوں میں زندہ رہتے ہیں۔
جاوید حیاتؔ بھی آج اپنے اشعار، اپنی محبت اور اپنے ادبی ورثے کی صورت میں زندہ ہیں، اور حافظ آباد کی ادبی تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد کیے جاتے رہیں گے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.




