آلِ سعود کی تاریخ: سعودی عرب پر کتنی پشتوں سے ایک ہی خاندان کی حکومت ہے؟
جب دنیا کی قدیم ترین اور طاقتور ترین شاہی حکومتوں کا ذکر آتا ہے، تو جزیرہ نما عرب پر حکمرانی کرنے والے آلِ سعود کا نام سرفہرست آتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سعودی عرب محض چند دہائیاں پرانا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس خطے پر آلِ سعود کی حکمرانی کی تاریخ تقریباً 300 سال پر محیط ہے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی عرب پر اب تک آلِ سعود کی کتنی پشتیں (نسلیں) حکومت کر چکی ہیں؟ اور کیا پہلی سعودی ریاست سے لے کر موجودہ جدید سعودی عرب تک حکمرانی کرنے والا خاندان ایک ہی ہے؟ آئیے اس بلاگ میں تفصیلی شجرہ نسب اور تاریخ کے ساتھ ان سوالات کے جوابات جانتے ہیں۔
کیا یہ ایک ہی خاندان ہے؟
جی ہاں، یہ بالکل ایک ہی خاندان ہے۔ پہلی سعودی ریاست (1727ء) کے قیام سے لے کر موجودہ جدید مملکتِ سعودی عرب تک، تمام حکمرانوں کا سلسلہ نسب ایک ہی جدِ امجد سے ملتا ہے، جن کا نام سعود بن محمد بن مقرن (وفات: 1725ء) تھا۔ انہی کے نام کی نسبت سے اس شاہی خاندان کو “آلِ سعود“ (سعود کی اولاد) کہا جاتا ہے۔
سیاسی نشیب و فراز اور جنگوں کی وجہ سے آلِ سعود کی حکومت تین مختلف ادوار میں تقسیم رہی ہے، جنہیں تاریخ میں “تین سعودی ریاستیں“ کہا جاتا ہے۔
آلِ سعود کی تین ریاستیں اور ان کی تاریخ
آلِ سعود نے تاریخ میں تین بار حکومت قائم کی:
- پہلی سعودی ریاست (1727ء – 1818ء): اس کی بنیاد امام محمد بن سعود نے درعیہ میں رکھی۔ اس کا خاتمہ عثمانی سلطنت کے ہاتھوں ہوا۔
- دوسری سعودی ریاست (1824ء – 1891ء): پہلی ریاست کے خاتمے کے بعد، اسی خاندان کے شہزادے ترکی بن عبداللہ نے دوبارہ طاقت جمع کی اور نجد میں حکومت قائم کی۔
- تیسری سعودی ریاست (1902ء/1932ء تا حال): یہ موجودہ جدید سعودی عرب ہے، جس کی بنیاد شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود (ابنِ سعود) نے رکھی۔
آلِ سعود کا پشت در پشت شجرہ نسب
اگر ہم محمد بن سعود (پہلی ریاست کے بانی) سے لے کر موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تک کا حساب لگائیں، تو یہ خاندان اب تک 11 پشتوں کا سفر طے کر چکا ہے:
پہلی سعودی ریاست کا دور
- پہلی پشت: سعود بن محمد بن مقرن (خاندان کے جدِ امجد)
- دوسری پشت: محمد بن سعود (پہلی ریاست کے بانی)
- تیسری پشت: عبدالعزیز بن محمد
- چوتھی پشت: سعود بن عبدالعزیز (سعود الکبیر)
- پانچویں پشت: عبداللہ بن سعود (پہلی ریاست کے آخری امیر)
دوسری سعودی ریاست کا دور (حکومت کی دوسری کڑی)
پہلی ریاست کے خاتمے کے بعد حکومت محمد بن سعود کے دوسرے بیٹے (مشاری) کی نسل میں منتقل ہوئی:
- چھٹی پشت: مشاری بن محمد بن سعود
- ساتویں پشت: ترکی بن عبداللہ (دوسری ریاست کے بانی)
- آٹھویں پشت: فیصل بن ترکی
- نویں پشت: عبدالرحمن بن فیصل (دوسری ریاست کے آخری امیر)
تیسری سعودی ریاست (جدید سعودی عرب)
- دسویں پشت: شاہ عبدالعزیز آل سعود (جدید سعودی عرب کے بانی)
- گیارہویں پشت: شاہ سلمان بن عبدالعزیز (موجودہ بادشاہ، جو شاہ عبدالعزیز کے سگے بیٹے ہیں)
- بارہویں پشت: شہزادہ محمد بن سلمان (موجودہ ولی عہد، جو شاہ سلمان کے بیٹے ہیں)
جدید سعودی عرب: صرف دو پشتوں کی حکومت
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ہم صرف موجودہ جدید سعودی عرب (1932ء سے تا حال) کی بات کریں، تو یہاں اب تک صرف دو پشتوں نے حکومت کی ہے۔
1932ء میں شاہ عبدالعزیز نے موجودہ مملکت کی بنیاد رکھی (پہلی پشت)۔ ان کی وفات کے بعد سے لے کر آج تک، سعودی عرب کا تخت صرف انہی کے سگے بیٹوں میں منتقل ہوتا رہا ہے (جن میں شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ خالد، شاہ فہد، شاہ عبداللہ اور موجودہ شاہ سلمان شامل ہیں)۔ یہ سب ایک ہی پشت یعنی بھائی ہیں۔
موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جب مستقبل میں بادشاہ بنیں گے، تو وہ شاہ عبدالعزیز کے پوتے ہونے کی حیثیت سے اس خاندان کی تیسری پشت کے پہلے حکمران ہوں گے۔
آلِ سعود کا اقتدار کوئی حادثاتی یا نیا اقتدار نہیں ہے، بلکہ یہ پچھلے 300 سال سے جزیرہ نیا عرب میں جاری ایک مضبوط خاندانی و تاریخی تسلسل ہے۔ خون اور نسل کے اعتبار سے یہ ایک ہی خاندان ہے جس نے تاریخ کے تمام اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنی حاکمیت کو برقرار رکھا۔
تاریخی حوالہ جات (References)
- درعیہ گیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (DGDA): پہلی سعودی ریاست کے قیام (1727ء) اور امام محمد بن سعود کی تاریخ کی تصدیق کے لیے سرکاری دستاویزات۔
- سعودی عرب کی سرکاری ویب سائٹ (Saudi Arabia Government Portal): شاہ عبدالعزیز اور جدید مملکتِ سعودی عرب کے قیام کی تاریخ۔
- کتاب: “The History of Saudi Arabia” (مصنف: Alexei Vassiliev): آلِ سعود کے شجرہ نسب، تینوں ریاستوں کے عروج و زوال اور خاندانی جنگوں کی تفصیلی تاریخ کے لیے ایک مستند ترین کتاب۔
- انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا (Encyclopædia Britannica): House of Saud (سیاسی تاریخ۔
Leave a Reply