صاحب میں ترے ناز اُٹھانے نہیں آئی
بس دیکھنے آئی ہوں منانے نہیں آئی
حیرت ہے کہ اِن شعبدہ بازوں میں بھی رہ کر
بے پر کی کوئی بات اُڑانے نہیں آئی
نکلی ہوں کہ کُچھ دشت نوردی کی ہوا لُوں
میں عشق کی بارش میں نہانے نہیں آئی
آئی ہوں کہ اُس پھول سے پیمان تھا میرا
رسم و رہِ دنیا تو نبھانے نہیں آئی
ماہین مجھے اس گل حیرت کی طلب تھی
ایسے ہی تو میں آئینہ خانے نہیں آئی