خفگیاں ہو کے بھی آزردگیاں ہوتی نہیں - فائنڈورا ادب

خفگیاں ہو کے بھی آزردگیاں ہوتی نہیں

مزمل حسین چیمہ

تخلیق کار

خفگیاں ہو کے بھی آزردگیاں ہوتی نہیں
وصل کے لمحوں میں خوابیدگیاں ہوتی نہیں

آنکھ سے آنکھ ملاتے ہی نہیں تم جاناں
عشق میں ایسی بھی سنجیدگیاں ہوتی نہیں

اُسے چھوتے بھی ہو اور دعوے عبادت کے بھی
ارے ایسے تو میاں، بندگیاں ہوتی نہیں

پھر کہ دل کو جلانا پڑے ہے میرے دوست
جب چراغوں سے کہیں روشنیاں ہوتی نہیں

ایک ہوتی ہے، فقط ایک ہوا کرتی ہے
عشق میں پیارے کئی زندگیاں ہوتی نہیں

ایک پیچیدگی ہے ، وہ کسی اور کا تو نہیں
چاہنے میں کئی پیچیدگیاں ہوتی نہیں

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

اگلی تحریر »
Scroll to Top
Scroll to Top