تُو کیسا ہے، کہاں ہے ، کچھ بھی اندازہ نہیں ہے

ڈاکٹر جواز جعفری

ڈاکٹر جواز جعفری

تخلیق کار

تُو کیسا ہے، کہاں ہے ، کچھ بھی اندازہ نہیں ہے
ترے بارے میں کوئی بھی خبر تازہ نہیں ہے

چمکتا ہے کہاں ، کس بام پر وہ چاند چہرہ
مرے رستے میں اب اُس گھر کا دروازہ نہیں ہے

سماعت ہے کہ آوازوں کے جُھرمٹ میں گِھری ہے
مگر اِن میں کہیں بھی تیرا آوازہ نہیں ہے

گُلِ سرسوں نے سب چہروں پہ کیسے جڑ پکڑ لی؟
یہاں تو ایک بھی چہرہ تر و تازہ نہیں ہے

بڑی مدت سے بےچہرہ بدن میں قید ہوں میں
کہ رہتا ہوں جہاں اُس گھر کا دروازہ نہیں ہے

یہاں سے ہو سکے تو بھاگ جسم و جاں بچا کر
یہ وہ بستی ہے جس میں رسمِ خمیازہ نہیں ہے

جواز اک ٹھیس لگتے ہی بکھر جائے ہوا میں
سُبک ایسا مری ہستی کا شیرازہ نہیں ہے

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top