کبھی زمانہ تھا کہ سیاست پر بحث محض ہوٹلوں کے ڈھابوں، تھڑوں اور بیٹھکوں تک محدود تھی۔ دو کپ چائے اور سگریٹ کے دھوئیں میں ملکی حالات کا تجزیہ کیا جاتا، اور پھر سب اپنے اپنے راستے ہو لیتے۔ لیکن اب منظر بدلا ہے۔ آج وہی بحثیں یوٹیوب کے ویلاگز میں منتقل ہو گئی ہیں۔ لاکھوں لوگ روزانہ یہ ویلاگ سنتے ہیں جیسے کسی علمی درس گاہ میں بیٹھے ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ان ویلاگز کو سننے سے حاصل کیا ہوتا ہے؟
میری ناقص رائے میں تو سیاسی ویلاگ اس وقت سننے چاہییں جب آپ نے خود ویلاگ بنانے ہوں۔ بصورتِ دیگر یہ محض وقت کا ضیاع ہیں۔ شاید میری بات کسی کو سخت لگے، مگر ذرا غور کیجیے۔ کیا واقعی یہ ویلاگ عوام کے مسائل حل کرتے ہیں؟ یا یہ صرف ایک نیا تماشا ہے جو ہمارے ذہنوں کو وقتی طور پر مصروف ضرور رکھتا ہے، مگر ہمارے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا؟
ذرا دیکھیے، آپ بجلی کا بل ہاتھ میں تھامے کھڑے ہیں، جیب خالی ہے اور تنخواہ ختم۔ بچے کی فیس دینی ہے، گھی کا ڈبہ لینا ہے، دوائی لینی ہے۔ لیکن یوٹیوب کھولیے تو وہاں ایک صاحب انتہائی اعتماد سے بتا رہے ہیں کہ فلاں لیڈر نے آج فلاں کے خلاف بیان دیا ہے، اور دوسرے صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگلے انتخابات میں بڑا دھماکہ ہونے والا ہے۔ آپ یہ سب سن کر لمحے بھر کو جوش میں آ جاتے ہیں، غصے یا امید میں مبتلا ہوتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ بجلی کا بل پھر بھی وہیں رکھا رہتا ہے، گھی کا ڈبہ مہنگا ہی ملتا ہے، اور فیس ادا کرنے کے لیے جیب پھر بھی خالی رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں کہتا ہوں، اگر ویلاگ سننے ہیں تو انہیں بطور تربیت سنیں۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ ویلاگر کس طرح کیمرے کے سامنے بیٹھ کر بات کرتا ہے، کس انداز میں دلیل دیتا ہے، اور اپنی گفتگو کو کیسے مؤثر بناتا ہے۔ یہ سیکھنے کے لیے کہ اگر کل کو آپ نے بھی ویلاگ بنانا ہو تو کس طرح اپنی رائے پیش کرنی ہے۔ بصورتِ دیگر یہ ویلاگ ذہنی آلودگی کے سوا کچھ نہیں۔
ہمارے ہاں بدقسمتی یہ ہے کہ ہم زیادہ تر “سامع” بننا پسند کرتے ہیں۔ ہم دوسروں کی رائے سنتے ہیں، اسے دہراتے ہیں، لیکن اپنی رائے قائم کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ سیاسی ویلاگ اس کمزوری کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ ایک مخصوص بیانیہ بار بار سن کر ہم اسے ہی حرفِ آخر سمجھ لیتے ہیں۔ مکالمہ ختم ہو جاتا ہے، صرف شور باقی رہ جاتا ہے۔ اور یہ شور کسی معاشرے کو باشعور نہیں بناتا، بلکہ مزید تقسیم کرتا ہے۔
یاد رکھیے، ویلاگر کا مقصد آپ کو باشعور بنانا نہیں، بلکہ اپنے چینل کے ویوز اور سبسکرائبرز بڑھانا ہے۔ اس کے لیے وہ ایسا مواد بناتا ہے جو آپ کے جذبات کو بھڑکائے، آپ کو ہنسائے یا غصہ دلائے، مگر سوچنے پر مجبور نہ کرے۔ آپ جتنا زیادہ دیکھیں گے، وہ اتنا زیادہ کمائے گا۔ لیکن آپ کو ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ اس کھیل کے اصل فاتح ویلاگر اور اشتہار دینے والے ہیں، عوام صرف تماشائی ہیں۔
ہاں، یہ ضرور ہے کہ اگر آپ خود ویلاگ بنانے کے خواہش مند ہیں تو یہ ایک قسم کی ورکشاپ ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کون سا لہجہ زیادہ اثر ڈالتا ہے، کس طرح الفاظ کو ترتیب دیا جاتا ہے، اور ناظرین کی توجہ کیسے کھینچی جاتی ہے۔ یہ سب ہنر آج کے دور میں ہر کسی کے لیے ضروری ہیں، چاہے وہ استاد ہو یا طالب علم، تاجر ہو یا سیاستدان۔ لیکن اگر مقصد صرف سننا ہے تو یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی سارا دن دوسروں کو کھانا کھاتے دیکھے اور خود بھوکا رہے۔
سیاسی ویلاگ ہمارے معاشرے میں ایک اور نقصان بھی کر رہے ہیں: وہ ذہنی انتشار بڑھا رہے ہیں۔ ایک ویلاگر کے مؤقف سے آپ متاثر ہوتے ہیں، پھر دوسرا ویلاگر اس کے برعکس بات کرتا ہے، تو آپ مزید الجھ جاتے ہیں۔ یوں آپ ایک مستقل کشمکش میں رہتے ہیں کہ اصل سچ کیا ہے۔ اس الجھن میں کبھی ہم ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو جاتے ہیں اور کبھی خود اپنی ذات میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں لوگ دوسروں کا مواد صرف کھپت کے لیے نہیں دیکھتے بلکہ اس سے کچھ سیکھ کر خود بھی تخلیق کرتے ہیں۔ یہی فرق ہے پروڈیوسر اور کنزیومر میں۔ اگر ہم صرف دوسروں کے بنائے ویلاگ سننے پر اکتفا کرتے رہے تو ہمیشہ تماشائی ہی رہیں گے۔ لیکن اگر ہم سیکھنے کی نیت سے سنیں اور پھر اپنی بات دنیا کے سامنے رکھیں تو یہ ہمارے لیے ترقی کا راستہ بھی بن سکتا ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ سیاسی ویلاگ اگر بطور “تربیت” استعمال کیے جائیں تو ان کی افادیت ہے، لیکن اگر انہیں محض وقت گزاری کے لیے سنا جائے تو یہ ذہنی آلودگی کے سوا کچھ نہیں۔ لہٰذا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ چاہیں تو دوسروں کے خیالات کے غلام بنے رہیں، اور چاہیں تو اپنے خیالات کے مالک بن جائیں۔ اور یقین مانیں، معاشرے کو سامعین کی نہیں، بولنے والوں، لکھنے والوں اور تخلیق کاروں کی ضرورت ہے۔