کوئی تہمت نہ کچھ الزام لگانے والے
کیسے میلے ہوئے آئینہ دکھانے والے
اس تبسم میں چھپی سسکیاں بھی دکھلاتا
مسکراتی ہوئی تصویر بنانے والے
اے زمانے کے رویّوں سے الجھتے ہوئے شخص
تیرے تیور بھی ہوئے آج زمانے والے
میں نے ماتھے پہ بغاوت کا سجا کر جھومر
ہاتھ تھاما تھا ترا، ہاتھ دکھانے والے
اتنی جلدی تو کسی سوچ میں ڈھل سکتے نہیں
ہم تخیل میں الگ دنیا بسانے والے
پھر بھلا کون بھروسہ کرے کس پر؟ بلقیس
نیند جب لوٹ گئے خواب دِکھانے والے