سانسیں ردیف تھیں کبھی آنکھیں ردیف تھیں

جہاں آراء تبسم

جہاں آراء تبسم

تخلیق کار

سانسیں ردیف تھیں کبھی آنکھیں ردیف تھیں
میں شاعری تھی اور مری باتیں ردیف تھیں

میں خوش تھی زندگی میں کوئی قافیہ نہ تھا
میں خوش نصیب تھی کہ پناہیں ردیف تھیں

ہر اک کتاب، حسن کا میں انتساب تھی
منسوب تیرے عشق سے راتیں ردیف تھیں

کل شب مشاعرے میں غزل جو سنائی تھی
خوشبو سے تربتر تری سانسیں ردیف تھیں

جب تک میں نظم تھی تو جہاں آرا نام تھا
اور جب غزل ہوئی تو کراہیں ردیف تھیں

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top