جس نے بھی دیکھی ہیں یہ آنکھیں، نمایاں دیکھا - فائنڈورا ادب

جس نے بھی دیکھی ہیں یہ آنکھیں، نمایاں دیکھا

جس نے بھی دیکھی ہیں یہ آنکھیں، نمایاں دیکھا
تیری آنکھوں کو بیابان و پریشاں دیکھا

دور تک نام و نشاں ہی نہیں دیکھا کسی کا
اس قدر خانہء دل کو میں نے ویراں دیکھا

اُس کی صورت کو یہ اللہ نے کرامت بخشی
جس نے بھی دیکھا اُس کو، ہو کے حیراں دیکھا

یعنی وہ بات بتانے کا سمے آ گیا ہے
بڑی مشکل سے دلِ غیر کو آساں دیکھا

ملحدوں کے دلِ ملحد میں خدا پایا گیا
آستینوں میں مگر شیخ کی، شیطاں دیکھا

ایک دوجے کو میسر رہے دونوں کے وجود
جب بچھڑ جانے کا ہم نے کہیں ساماں دیکھا

اس زمانے کو ضرورت سے زیادہ میں نے
تیرے بارے میں مزملؔ ہے پریشاں دیکھا

Scroll to Top
Scroll to Top