کوئی نہ تھیں مرے اوپر قیود ماضی میں
رقیبوں کے لیے تھیں بس حدود ماضی میں
چھپائے بیٹھی تھیں میری نگاہیں جس غم کو
فقط تمہارے لیے تھا شہود ماضی میں
وہی زباں مری رسوائی کی کرے چرچا
کہ جس زباں پہ تھی میری حمود ماضی میں
ہم ایک دوسرے بن رہ نہ پائیں ، مرجائیں
کچھ ایسے ہی تھے ہمارے عمود ماضی میں
اتار بیٹھے ہیں جس سانچے میں محبت ہم
کہ ایسی تو نہ تھی کوئی نمود ماضی میں
اداس آنکھیں نظر آئیں آئینے میں فقط
میں چھوڑ آیا ہوں باقی وجود ماضی میں
ابھی یہ حال ہے رو دیتے ہیں تمہیں تک کر
تمہاری دید غزؔل تھی کشود ماضی میں