یوں محبت کو محبت کے مطابق دیکھا
تیری صورت کو ضرورت کے مطابق دیکھا
میں محبت میں تھا تجدید کا قائل لیکن
اس محبت کو روایت کے مطابق دیکھا
دل کی یہ ضد تھی کہ زخموں کا مداوا ہو جائے
اس نے شکوے کو شکایت کے مطابق دیکھا
ہم نے ہر رشتہءِ الفت کو سنبھالا لیکن
اس نے ہر ربط عداوت کے مطابق دیکھا
شہرِ بوسال کے بادوں کا تصور کر کے
دل کی وحشت کو قیامت کے مطابق دیکھا
اس کے ہاتھوں پہ جو شبنم کے حسیں قطرے تھے
لمس کو اس کی نزاکت کے مطابق دیکھا
کربِ ہجراں سے گزرنا کوئی آساں تو نہ تھا
اس کٹھن پل کو اذیت کے مطابق دیکھا
اس کی تعبیر سہولت سے بھری ہو گی غزؔل
خواب اس بار طبیعت کے مطابق دیکھا