فقط تیرا ہوں ، کہوں گرچہ ، تو تو کیا کرے گا
فقط تیرا ہوں ، کہوں گرچہ ، تو تو کیا کرے گا
میں تیرے دل میں رہوں گرچہ ، تو تو کیا کرے گا
مجھے غلط نہیں ہونے دیا اسی ڈر نے
غلط ہوں میں یہ کہوں گرچہ ، تو تو کیا کرے گا
ترا ہو جانے کی خواہش میں رہ گیا ہو اب
مرا مرا سا جنوں گرچہ ، تو تو کیا کرے گا
ترے نہ چاہنے پر تیرا ہاتھ تھامے ہوئے
قدم دو چار چلوں گرچہ ، تو تو کیا کرے گا
کہ ہو گیا ہے تو بیزار میری نسبت سے
تجھے غزل میں لکھوں گرچہ ، تو تو کیا کرے گا
جسے کبھی سقراط پی گیا تھا غزلؔ
وہی میں زہر پیوں گرچہ ، تو تو کیا کرے گا