کتنے دن ہو گئے ہیں وہ آیا نہیں
پھر بھی کہتا ہے اس نے ستایا نہیں
جسم سے جسم تو روز ملتے ہیں
روح سے روح کو پر ملایا نہیں
دیکھتا ہوں تیرے خواب اک عرصہ سے
ایک عرصہ سے خود کو جگایا نہیں
ہر کوئی میرے دل میں اتر آتا ہے
ہر کسی سے مگر دل لگایا نہیں
میری نظروں میں تو آ گیا تھا مگر
میں نے رستے سے پتھر ہٹایا نہیں
جس کا سایہ غزلؔ ہوتا میرے لیے
پیڑ ایسا کوئی بھی لگایا نہیں