کٹھیالہ شیخاں
تاریخ، ثقافت اور شناخت کی ایک قدیم بستی
تعارف
کٹھیالہ شیخاں، ضلع منڈی بہاءالدین کی تحصیل ملکوال کے قریب واقع ایک قدیم اور معروف بستی ہے، جو اپنے تاریخی پس منظر، زرخیز زرعی زمین، دینی خدمات اور تعلیمی شعور کے باعث علاقے میں ایک نمایاں شناخت رکھتی ہے۔
محلِ وقوع و جغرافیہ
یہ گاؤں کٹھیالہ نمبر 3454، 3454/1 اور 3454/2 پر مشتمل ہے۔ کل رقبہ تقریباً 3 مربع میل اور 30 مربع نالہ کے لگ بھگ ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ دریائے جہلم کے قرب و جوار میں واقع ہونے کے باعث نہایت زرخیز زمین کا حامل ہے۔
تاریخی پس منظر
ریونیو اور مقامی تاریخی روایات کے مطابق 1567ء میں جٹ قوم کی گوت گوندل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص، کاہنہ، نے موضع سہال سے آ کر اس علاقے کو آباد کیا۔ یہ علاقہ قدیم گوندل اراضیات کا حصہ تھا، جس میں بوسال، جوجیانوال اور دیگر بائیس دیہات شامل تھے۔
مقامی روایات کے مطابق کٹھیالہ شیخاں کی آبادی کا تعلق بارِ موسیٰ آباد کرنے والے حضرت موسیٰؑ کی نسل سے جوڑا جاتا ہے۔ بعد ازاں شیخ عثمان نامی صوفی بزرگ یہاں وارد ہوئے، جن کا تعلق راجپوت قوم سے تھا۔ ان کے اجداد اوچ شریف (بہاولپور) سے ملتان اور پھر آہلہ (ضلع منڈی بہاءالدین) منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے ایک کنواں تعمیر کروایا جو آج بھی “شیخوں کا کنواں” کہلاتا ہے۔
شیخ عثمان نے کٹھیالہ شیخاں میں قیام کر کے تبلیغِ دین کا آغاز کیا۔ ان کی چھٹی نسل میں قائم دین بزرگ نمایاں ہوئے، جن کی سخاوت اور عوامی خدمات کے باعث اس بستی کو “کٹھیالہ شیخاں” کے نام سے شہرت ملی۔ تاریخی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیخ عثمان کی آمد سترہویں صدی عیسوی کے اوائل میں ہوئی، جبکہ اس دور میں خطے پر راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت قائم تھی۔
انتظامی و سرکاری ارتقاء
1860ء میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے کٹھیالہ شیخاں میں تھانہ قائم کیا گیا، جس کی حدود میں اس وقت تقریباً 60 دیہات شامل تھے۔ 1832ء میں یہاں ایک ڈسپنسری قائم کی جا چکی تھی۔
زراعت و معیشت
کٹھیالہ شیخاں ایک مکمل زرعی بستی ہے۔ یہاں کی اہم فصلات میں گندم، چاول، گنا، مکئی، چارہ اور سبزیاں شامل ہیں۔ جدید دور میں گاؤں کے نوجوان فوج، پولیس، تعلیم، وکالت اور بیرونِ ملک روزگار سے وابستہ ہو کر قومی و مقامی معیشت میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
مذہبی و تعلیمی حیثیت
کٹھیالہ شیخاں مذہبی اور تعلیمی حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ گاؤں میں حضرت شیخ شرف الدینؒ کا مزار واقع ہے، جو نہ صرف روحانی عقیدت کا مرکز ہے بلکہ علاقے میں دینی شعور کے فروغ کا ذریعہ بھی رہا ہے۔ اس مزار سے وابستہ روایات کے مطابق دور دراز علاقوں سے زائرین حاضری دیتے رہے ہیں، جس سے گاؤں کی مذہبی شناخت کو تقویت ملی۔
گاؤں میں متعدد قدیم و جدید مساجد قائم ہیں جہاں پنج وقتہ نماز، جمعہ، اور مذہبی اجتماعات باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں۔ دینی تعلیم کے لیے مدارس بھی قائم ہیں، جن میں مدرسہ تعلیم القرآن قابلِ ذکر ہے، جہاں ناظرہ، حفظِ قرآن اور ابتدائی دینی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔
تعلیمی میدان میں کٹھیالہ شیخاں نے بتدریج ترقی کی۔ 1912ء میں قائم ہونے والا سرکاری پرائمری اسکول بعد ازاں 1961ء میں مڈل اور 1985ء میں ہائی اسکول کے درجے تک پہنچا۔ ان اداروں نے کئی دہائیوں تک علاقے کے بچوں کو بنیادی و ثانوی تعلیم فراہم کی۔ اس کے علاوہ نجی تعلیمی ادارے بھی قائم ہیں، جو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
مذہبی اور تعلیمی اداروں کی موجودگی نے اس بستی کو نہ صرف اخلاقی و سماجی استحکام فراہم کیا بلکہ یہاں سے نکلنے والی نسلوں میں دینی اقدار اور تعلیمی شعور کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
سماجی و ثقافتی زندگی
یہاں کے باسی محنتی، دیندار اور مہمان نواز سمجھے جاتے ہیں۔ دیہی ثقافت میں باہمی تعاون، احترامِ بزرگاں اور سماجی ہم آہنگی نمایاں عناصر ہیں۔ میلاد کی محافل، نعت خوانی اور روایتی کھیل جیسے کبڈی، نیزہ بازی اور کشتی سماجی زندگی کا حصہ ہیں۔
مشہور شخصیات
محمد ممتاز احمد شیخ — سماجی رہنما و مذہبی شخصیت
حاجی تصور عباس گوندل — معروف سماجی و سیاسی شخصیت
محمد افضل ناز — نامہ نگار خصوصی و محقق
کٹھیالہ شیخاں ضلع منڈی بہاءالدین کی ان بستیوں میں شامل ہے جہاں تاریخ، روحانیت، زراعت اور تعلیم باہم یکجا نظر آتی ہیں۔ یہ گاؤں آج بھی اپنی روایات کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہا ہے، اور نئی نسل ان اقدار کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.




