سکھیکی منڈی (ضلع حافظ آباد)
تعارف
سکھیکی منڈی (انگریزی: Sukheke Mandi) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں کا ایک تاریخی، تجارتی اور زرعی قصبہ ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 207 میٹر بلندی پر واقع یہ قصبہ خطہ ساندل بار میں نہری، تجارتی اور اسٹریٹجک مواصلاتی رابطوں کے باعث خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی تقریباً 42,626 افراد پر مشتمل ہے، جبکہ اس کا سب سے بڑا آبادی والا رہائشی علاقہ “محلہ حاجی پورہ” ہے۔
نام کی وجہِ تسمیہ (روایات)
سکھیکی کے نام کی وجہِ تسمیہ کے متعلق تاریخ اور زبانی روایات میں تین اہم آراء ملتی ہیں:
-
پہلی روایت (خشکی و بنجر پن): ماضی میں یہ علاقہ بالکل ویران، بنجر اور خشک سالی کا شکار تھا۔ سوکھا (خشکی) ہونے کی وجہ سے یہ خطہ “سوک کی“ کہلایا جو بعد میں کثرتِ استعمال سے بدل کر “سکھیکی“ بن گیا۔
-
دوسری روایت (سیکھو جٹ قبیلہ): یہاں جٹ برادری کے “سیکھو“ خاندان نے پہلی بار باقاعدہ آباد کاری کی۔ رفتہ رفتہ “سیکھو“ ذات کا نام قصبے کی پہچان بنتے ہوئے سکھیکی میں تبدیل ہو گیا۔
-
تیسری روایت (سکھ مذہب سے نسبت): تقسیمِ ہند سے قبل یہاں سکھ آبادی کثیر تعداد میں آباد تھی، جنہوں نے اپنے مذہب کی نسبت سے اس بستی کو “سکھ آباد“ کا نام دیا جو بعد ازاں وقت گزرنے کے ساتھ سکھیکی کہلایا۔
محل وقوع اور مواصلاتی رابطے
-
شاہراہیں اور روڈ نیٹ ورک: سکھیکی منڈی، لاہور–سرگودھا روڈ پر پنڈی بھٹیاں سے 20 کلومیٹر مشرق اور حافظ آباد شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ موٹروے بننے سے قبل لاہور سے سرگودھا، چنیوٹ، خوشاب، جھنگ اور میانوالی جانے والی تمام ٹریفک اسی سینٹر پوائنٹ سے گزرتی تھی۔
-
کوٹ سرور انٹرچینج (M-2): متصل موضع کوٹ سرور کے مقام پر ایم–2 موٹروے کا “کوٹ سرور انٹرچینج“ محض 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جو لاہور اور اسلام آباد کے لیے تیز رفتار رسائی فراہم کرتا ہے۔
-
سکھیکی سروس ایریا: ایم–2 پر واقع سکھیکی موٹروے سروس ایریا ملکی و بین الاقوامی فوڈ برانڈز، فیول اسٹیشنز اور مسافر سہولیات کے باعث ملک گیر شہرت رکھتا ہے۔
تاریخی پس منظر اور نوآبادیاتی دور
-
نہر رکھ برانچ (1892ء): 1892ء میں برطانوی حکومت نے خانکی ہیڈ ورکس سے لوئر چناب کینال پروجیکٹ شروع کیا جو 1898ء میں مکمل ہوا۔ اس کی اہم شاخ “رکھ برانچ“ سکھیکی کے وسط سے گزر کر ساندل بار اور لائل پور (فیصل آباد) کے علاقوں کو سیراب کرتی ہے۔ اس نے علاقے کی بنجر زمینوں کو پنجاب کی زرخیز ترین زرعی بیلٹ میں تبدیل کر دیا۔
-
ریلوے ٹریک اور اسٹیشن (1926ء): فیصل آباد–وزیر آباد ریلوے لائن پر قائم سکھیکی ریلوے اسٹیشن کی پٹریوں پر آج بھی 1926ء اور 1927ء کے ہندسے کندہ ہیں، جو اس کے نوآبادیاتی دور میں تجارتی شریان ہونے کا ثبوت ہیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز تک یہاں سے چاول اور گندم باقاعدہ برآمد کی جاتی رہی۔
-
لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی آمد: مقامی روایات کے مطابق تقسیم ہند کے وقت برصغیر کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن خصوصی ٹرین سے سکھیکی ریلوے اسٹیشن پر اترے اور متصلہ گاؤں “بہادر والی“ تشریف لے گئے، جہاں ان کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا تھا۔
-
مسافر قبرستان: ریلوے اسٹیشن کے قریب پیش آنے والے ایک تاریخی ٹرین حادثے کے جاں بحق مسافروں کی تدفین کے بعد یہ قبرستان “مسافر قبرستان“ کہلایا۔ اب جگہ مکمل ہونے کی وجہ سے دربار سید شبیر شاہؒ اور محلہ حاجی پورہ میں الگ قبرستان بن چکے ہیں۔
-
صدر ایوب خان کا دورہ (1965ء) اور گریڈ اسٹیشن: بجلی گھر (گریڈ اسٹیشن) کی تعمیر 1958ء میں شروع ہو کر 1962ء میں مکمل ہوئی۔ 1965ء میں فیلڈ مارشل صدر محمد ایوب خان نے محلہ حاجی پورہ کا دورہ کیا اور سیم و تھور کے تدارک کے لیے زیر زمین پانی نکالنے والے سرکاری ٹیوب ویلوں کا افتتاح کیا۔
-
انتظامی حیثیت: سکھیکی اکتوبر 1993ء تک ضلع گوجرانوالہ کا حصہ رہا، بعد ازاں حافظ آباد کو ضلع کا درجہ ملنے پر اسے تحصیل پنڈی بھٹیاں میں شامل کر دیا گیا۔
تعلیمی ادارے اور بنیادی سہولیات
-
گورنمنٹ راشد منہاس ہائر سیکنڈری اسکول: اس تاریخی ادارے کا آغاز 1903ء میں بطور پرائمری اسکول ہوا۔ مڈل درجے پر ترقی کے بعد اس کی مشہور “یو بلاک“ عمارت کا افتتاح 1946ء میں کمشنر لاہور نوابزادہ سید اللہ خان نے کیا۔ 1960ء کی دہائی میں ہائی اسکول بنا اور بعد میں نشانِ حیدر راشد منہاس کے نام سے منسوب کیا گیا۔
-
دیگر تعلیمی ادارے: طالبات کے لیے ہائر سیکنڈری اسکول اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج قائم ہیں، جبکہ لڑکوں کے لیے مکمل ڈگری کالج کا قیام علاقے کا ایک بڑا مطالبہ ہے۔ نجی سطح پر الائیڈ اور دی سمارٹ اسکول جیسے نیٹ ورکس موجود ہیں۔
-
تھانہ سکھیکی: موجودہ تھانے کی عمارت 1938ء میں تعمیر ہوئی، جبکہ دستاویزات کے مطابق برطانوی راج میں 1800ء کی دہائی کے اواخر سے یہاں چوکی سکھیکی فعال تھی۔
-
صحت کے مراکز: گورنمنٹ رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اور نجی کلینکس علاقے کے عوام کو ہمہ وقت طبی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔
زرعی معیشت، بازار اور روحانی مراکز
-
باسمتی چاول کی عالمی منڈی: سکھیکی اعلیٰ کوالٹی کے باسمتی چاول کا ایک بڑا مرکز ہے۔ شہر کے ارد گرد درجنوں جدید رائس شیلرز اور ملز موجود ہیں جہاں سے چاول مڈل ایسٹ اور یورپی ممالک کو برآمد ہوتا ہے۔
-
صنعتی صورتحال: بھاری صنعتوں کے فقدان کے باعث یہاں کی معیشت کا دارومدار زراعت، رائس شیلرز اور مین بازار و سرگودھا روڈ کی مارکیٹوں پر ہے۔
-
روحانی مراکز: نامور صوفی بزرگ حضرت ابو انیس برکت علی لدھیانویؒ کا قائم کردہ “حجرہ نمبر 1“ اور دربار سید شبیر شاہؒ قصبے کے مرکزی روحانی مراکز ہیں۔ جامعہ مسجد نور شہر کی مرکزی عبادت گاہ ہے۔
حوالہ جات:
-
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS)، “ڈسٹرکٹ مردم شماری رپورٹ برائے ضلع حافظ آباد و پنڈی بھٹیاں (2017ء)”۔
-
پنجاب ڈسٹرکٹ گزٹیئرز، “ہسٹری آف گوجرانوالہ اینڈ چناب کالونی (لوئر چناب کینال پروجیکٹ اور رکھ برانچ 1892ء–1898ء)”۔
-
ریلوے ریکارڈز (نارتھ ویسٹرن ریلوے آرکائیوز)، “وزیر آباد تا فیصل آباد لوپ لائن و سکھیکی ریلوے اسٹیشن ریکارڈ (1926ء–1927ء)”۔
-
محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب، “گورنمنٹ راشد منہاس ہائر سیکنڈری اسکول سکھیکی منڈی کا تاریخی ریکارڈ و سنگِ بنیاد یو بلاک (1946ء)”۔
-
دستاویزی فلم و تاریخی ریکارڈ، “ڈاکومنٹری ہسٹری آف سکھیکی منڈی“۔
Loading...
No Records Found
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Maps failed to load
Sorry, unable to load the Maps API.









