Profile
علی نگر (سابقہ لوکڑی مسلیاں)
تحصیل ملکوال، ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان
تعارف
علی نگر (Ali Nagar) ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال میں واقع ایک تاریخی زرعی بستی ہے، جسے ماضی میں لوکڑی اور بعد ازاں لوکڑی مسلیاں کے نام سے جانا جاتا رہا ہے۔ مقامی تاریخی روایت کے مطابق اس بستی کی بنیاد 18ویں صدی عیسوی میں فیض دین کھوکھر کی آمد سے ہوئی، جو ملک مبارک خان کے صاحبزادے تھے۔
وقت کے ساتھ مختلف برادریوں کی آمد، باہمی رشتوں اور آبادی میں اضافے کے نتیجے میں ایک ابتدائی پڑاؤ باقاعدہ گاؤں میں تبدیل ہوا۔ 2026ء میں گاؤں کی قیادت سنبھالنے والے سردار حسنین علی کھوکھر کی تجویز پر گاؤں کے لیے ایک نئے اور بہتر نام کی ضرورت محسوس کی گئی، کیونکہ قدیم نام لوکڑی اب گاؤں کی موجودہ حیثیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ اسی تناظر میں الحاج الحافظ پیر سید فیض اللہ شجاع بادشاہ (البغدادی الگیلانی الرزاق) کی جانب سے علی نگر نام تجویز کیا گیا۔
تاریخی پس منظر
مقامی روایت کے مطابق 18ویں صدی عیسوی میں فیض دین کھوکھر، جو ملک مبارز خان کے صاحبزادے تھے، اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ میانہ گوندل سے اس علاقے میں آئے۔
اس زمانے میں فیض دین کے مالی حالات زیادہ مستحکم نہیں تھے اور وہ لیل پور، جو آج فیصل آباد کے نام سے جانا جاتا ہے، وہاں کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ سفر کے دوران انہوں نے موجودہ گاؤں کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ اس وقت یہاں ون کے درخت موجود تھے۔ فیض دین نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان درختوں کے نیچے کچھ عرصہ قیام کیا۔
بعد ازاں ان کی کھوکھر برادری کے دیگر افراد نے بھی ان کے ساتھ یہاں آباد ہونے کا فیصلہ کیا اور یوں فیض دین کے ہمراہ میانہ گوندل چھوڑ کر اس مقام پر رہائش اختیار کی۔ ابتدائی طور پر یہ جگہ ایک پڑاؤ تھی، جو رفتہ رفتہ ایک مستقل بستی میں تبدیل ہوگئی۔
اس دور میں میانہ گوندل کو مقامی طور پر لوک کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ فیض دین اور ان کے ساتھیوں نے اپنی نئی آبادی کو لوکڑی کا نام دیا اور اپنی روزمرہ ضرورت کی اشیاء میانہ گوندل سے خرید کر لاتے رہے۔
مختلف برادریوں کی آمد
وقت گزرنے کے ساتھ میانہ گوندل سے بلوچ برادری کے افراد بھی یہاں آ کر آباد ہوئے۔ کھوکھروں اور بلوچوں کے درمیان باہمی رشتے قائم ہوئے، جس سے دونوں برادریوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔
بعد ازاں شعطرہ برادری کے افراد بھی کھوکھروں اور بلوچوں کے ساتھ رشتہ داری کے نتیجے میں یہاں آ کر آباد ہوئے۔ اس کے بعد دیگر برادریوں نے بھی اس بستی میں رہائش اختیار کی، جن میں ماچھی، موچی، درکھان اور کمہار شامل تھے۔
بعد میں سپراہ برادری کے چند افراد لالیاں سے یہاں پناہ لینے کے لیے آئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے بھی اسی بستی کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔
لوکڑی سے لوکڑی مسلیاں
مقامی روایت کے مطابق بستی کا ابتدائی نام صرف لوکڑی تھا۔ بعد میں شعطرہ برادری کے افراد یہاں آباد ہوئے، جو مقامی طور پر مصلی بھی کہلاتے تھے۔
کھوکھروں اور بلوچوں کے ساتھ شعطرہ برادری کے رشتوں اور ان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث نام کے ساتھ مسلیاں کا اضافہ ہوا اور بستی لوکڑی مسلیاں کے نام سے معروف ہوگئی۔
علی نگر نام کی تجویز
2026ء میں سردار حسنین علی کھوکھر، جو بستی کے بانی خاندان یعنی ملک مبارک خان کے صاحبزادے فیض دین کھوکھر کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، نے گاؤں کی قیادت سنبھالی۔
ان کی رائے تھی کہ اب بستی کو ایک ایسا نام دیا جانا چاہیے جو اس کی موجودہ حیثیت اور مستقبل کے وژن کی نمائندگی کرے، کیونکہ یہ مقام اب محض ایک ابتدائی پڑاؤ یا لوکڑی نہیں بلکہ ایک مکمل گاؤں کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اسی سلسلے میں الحاج الحافظ پیر سید فیض اللہ شجاع بادشاہ (البغدادی الگیلانی الرزاق) کی جانب سے علی نگر نام تجویز کیا گیا۔
یہ نام گاؤں کی نئی شناخت اور مستقبل کی تعمیر کے وژن کے طور پر سامنے آیا ہے۔
جغرافیائی خصوصیات
علی نگر جیچ دوآب کے خطے میں واقع ہے، جو دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان واقع زرخیز علاقہ ہے۔
یہ خطہ دریاؤں اور ندی نالوں کی جانب سے لائی جانے والی زرخیز مٹی کے باعث زرعی اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ گاؤں کے اردگرد زرعی رقبہ وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے جبکہ رہائشی آبادی مرکزی انداز میں قائم ہے۔
زرعی نظام
علی نگر کے اردگرد زرعی زمینیں منظم مربعوں/مرّبوں اور چکوں کی شکل میں پھیلی ہوئی ہیں۔ زرعی رقبہ بنیادی طور پر سالانہ اور موسمی فصلوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اہم فصلوں میں جوار، کپاس، گنا (کماد)، گندم، چاول اور باجرہ شامل ہیں۔
آبپاشی کے لیے لوئر جہلم کینال کے نہری نظام کے علاوہ زیرِ زمین پانی کے حصول کے لیے ٹیوب ویل بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے زرعی سرگرمیوں کے لیے پانی کی دستیابی میں مدد ملتی ہے۔
اہم پھل
علی نگر میں زرعی سرگرمیوں کے ساتھ پھلوں کی پیداوار بھی پائی جاتی ہے۔ مقامی طور پر نمایاں پھلوں میں مالٹا اور امرود شامل ہیں۔
آبادی کی ساخت
علی نگر ایک مرکزی دیہی آبادی کی شکل رکھتا ہے۔ رہائشی مکانات نسبتاً ایک مرکزی علاقے میں قائم ہیں جبکہ ان کے چاروں طرف زرعی رقبہ پھیلا ہوا ہے۔
یہ طرزِ آبادی دیہی پنجاب کے روایتی گاؤں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں رہائشی آبادی کو ایک جگہ رکھتے ہوئے اردگرد کی زمین کو زیادہ سے زیادہ زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مذہبی و سماجی مراکز
گاؤں کے اہم مذہبی و سماجی مراکز میں:
جامع مسجد غوثیہ علی نگر
یہ گاؤں کی نمایاں مذہبی شناختوں میں شامل ہے۔
مرکزی جنازہ گاہ
مرکزی جنازہ گاہ گاؤں کے اجتماعی اور سماجی نظام کا اہم حصہ ہے۔
مواصلات اور آمدورفت
علی نگر مقامی سڑکوں کے ذریعے منڈی بہاؤالدین، سرگودھا اور گردونواح کے قصبات و منڈیوں سے منسلک ہے۔
یہ سڑکیں نہ صرف مقامی آبادی کے سفر بلکہ زرعی پیداوار کو قریبی منڈیوں تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
نمایاں مذہبی و علمی شخصیات
استادِ حافظ محمد نواز صاحب مرحوم (المعروف حافظ ساوا)
حافظ محمد نواز صاحب علاقے کی معروف دینی و علمی شخصیت تھے۔
آپ کی پیدائش ضلع میانوالی میں ہوئی اور آپ کا تعلق اعوان قوم سے تھا۔ بعد ازاں آپ کے آباؤ اجداد ضلع سرگودھا کے قصبے للانڑی (لِلّانی) منتقل ہوگئے، جہاں آپ نے اپنا بچپن گزارا۔
آپ نے ابتدائی تعلیم حافظ آباد کے مولانا محمد شریف صاحب رضوی سے حاصل کی اور مدرسہ رضویہ للانڑی میں حافظ سائیں محمد صاحب سے قرآن مجید حفظ کیا۔
بعد ازاں آپ نے وزیر آباد میں شیخ القرآن کے پاس دورۂ حدیث مکمل کیا۔ مختلف علاقوں میں تراویح کے دوران قرآن مجید سنانے کے بعد بزرگ حاجی شاہ محمد صاحب اور سرداراں سپراہ کی وساطت سے آپ لوکڑی (مسلم شیخاں) تشریف لائے۔
تقریباً 1976ء میں آپ نے جامع مسجد حنفیہ لوکڑی کی امامت و خطابت سنبھالی۔
آپ خوش اخلاق، متقی اور علاقے میں معروف دینی شخصیت تھے۔ آپ نے متعدد حفاظ تیار کیے، جن میں حافظ عبد الرحمن صاحب، حافظ محمد بشیر صاحب اور حافظ محمد اسلم صاحب نمایاں ہیں۔
آپ کا انتقال 2015ء میں ہوا اور آپ کو للانڑی (اڈے والے) قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
حافظ محمد اسلم صاحب
حافظ محمد اسلم صاحب نے اپنے استاد حافظ محمد نواز صاحب سے 1997ء میں قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا اور 1998ء میں حفظ مکمل کیا۔
حفظ مکمل کرنے کے فوراً بعد، 1998ء ہی میں حافظ محمد نواز صاحب نے انہیں بچوں کو قرآن پڑھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ انہوں نے 2015ء تک اپنے استاد کے زیرِ سایہ یہ خدمات انجام دیں۔
استاد کے انتقال کے بعد 2016ء میں قبلہ پیر سید فیض اللہ شجاع کی زیرِ سرپرستی مدرسہ قادریہ فیضیہ کی بنیاد رکھی۔
مقامی معلومات کے مطابق مدرسہ اہلِ علاقہ اور بیرونِ ملک مخیر حضرات کے تعاون سے جاری ہے اور اس وقت تقریباً 70 سے 80 بچے اور بچیاں یہاں زیرِ تعلیم ہیں۔
حافظ مرزا خان سپرا صاحب
حافظ مرزا خان سپرا صاحب علاقے کی معروف دینی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ حافظ محمد اسلم صاحب نے بھی ان سے قرآن مجید پڑھا، اسباق لیے اور منزلیں سنائیں۔
آپ سادہ مزاج، درویش صفت اور دنیاوی لالچ سے بے نیاز شخصیت کے طور پر معروف تھے۔ علمِ قراءت اور حفظِ قرآن میں آپ کی مہارت کی وجہ سے علاقے کے حفاظ آپ کا خاص احترام کرتے تھے۔
مقامی روایت کے مطابق قرآن مجید سناتے ہوئے کسی حافظ سے غلطی ہوتی تو آپ فوراً اس کی اصلاح کرتے تھے، جس کے باعث حفاظ کے درمیان آپ کو ایک معتبر علمی مقام حاصل تھا۔
آپ کا وصال یکم ستمبر 1992ء کو ہوا۔
گاؤں کے سردار
سردار حسنین علی کھوکھر
سردار حسنین علی کھوکھر 15 اپریل 2005ء کو پیدا ہوئے اور بانی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ ملک مبارزخان کےصاحبزادے فیض دین کھوکھر کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
آپ نے انٹرمیڈیٹ آف کمپیوٹر سائنس (ICS) مکمل کیا ہے اور اس وقت بی ایس پولیٹکس (سیاسیات) کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
2026ء میں آپ نے گاؤں کی سربراہی سنبھالی۔ آپ کا گاؤں کے ساتھ تعلق محض رہائش تک محدود نہیں بلکہ آپ اسے اپنے آباؤ اجداد کا تاریخی ورثہ سمجھتے ہیں۔
آپ کو اپنے شجرۂ نسب، قبائلی تاریخ اور گاؤں کی شناخت کو محفوظ رکھنے میں خصوصی دلچسپی ہے۔
علی نگر کے لیے وژن
سردار حسنین علی کھوکھر کے وژن میں گاؤں کی تعلیمی، طبی، سماجی اور انتظامی ترقی شامل ہے۔
ان کے منصوبوں میں گاؤں میں اسکول اور ہسپتال کا قیام، منظم انتظامی نظام، مختلف کمیٹیوں کی تشکیل، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور جدید طرز پر گاؤں کی منصوبہ بندی شامل ہیں۔
وہ سیٹلائٹ لے آؤٹ اور جدید معلوماتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے علی نگر کو ایک منظم اور ماڈل گاؤں بنانے کا وژن رکھتے ہیں، جہاں تاریخی قبائلی شناخت اور جدید ترقی ایک ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
ان کے بیان کردہ مقصدِ حیات میں رضائے الٰہی، عوامی خدمت، تعلیم کا فروغ اور فلاحی کام بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
علی نگر کی شناخت
علی نگر کی موجودہ شناخت ایک ایسی بستی کے طور پر سامنے آتی ہے جس کی بنیاد ایک تاریخی کھوکھر خاندان کی آمد سے ہوئی، بعد ازاں بلوچ، شعطرہ، سپراہ، ماچھی، موچی، درکھان، کمہار اور دیگر برادریوں کی آبادکاری سے اس کا سماجی ڈھانچہ وسیع ہوا۔
لوکڑی → لوکڑی مسلیاں → علی نگر کا سفر اس بستی کی تاریخی اور سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔
آج علی نگر کی بنیادی شناخت زرعی معیشت، زرخیز زمین، نہری آبپاشی، مختلف برادریوں کی مشترکہ آبادی، دینی و تعلیمی روایت اور مستقبل میں ایک منظم و ترقی یافتہ گاؤں بننے کے وژن سے وابستہ ہے۔
علی نگر (سابقہ لوکڑی مسلیاں) تحصیل ملکوال، ضلع منڈی بہاؤالدین کی ایک تاریخی زرعی بستی ہے۔ مقامی روایت کے مطابق اس کی بنیاد 18ویں صدی میں فیض دین کھوکھر نے رکھی، جو ملک مبارک خان کے صاحبزادے تھے۔ ابتدائی طور پر یہاں ایک پڑاؤ قائم ہوا جو وقت کے ساتھ مستقل آبادی میں تبدیل ہوگیا۔ مختلف ادوار میں بلوچ، شعطرہ، سپراہ، ماچھی، موچی، درکھان، کمہار، گوندل، تارڑ، چڈھر اور دیگر برادریاں یہاں آباد ہوئیں۔
بستی کا قدیم نام لوکڑی تھا جو بعد میں لوکڑی مسلیاں کے نام سے معروف ہوا۔ 2026ء میں سردار حسنین علی کھوکھر کی سربراہی میں گاؤں کی نئی شناخت کے لیے علی نگر نام تجویز کیا گیا۔
زراعت یہاں کی بنیادی معاشی سرگرمی ہے اور جوار، کپاس، گنا، گندم، چاول اور باجرہ اہم فصلیں ہیں، جبکہ مالٹا اور امرود نمایاں پھل ہیں۔ لوئر جہلم کینال اور ٹیوب ویل زرعی آبپاشی کے اہم ذرائع ہیں۔
نوٹ: تاریخی ناموں، خاندانوں کی آمد، برادریوں کی آبادکاری اور نام کی تبدیلی سے متعلق تفصیلات مقامی تاریخی روایت اور فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ انہیں مستند تاریخی ریکارڈ کے طور پر پیش کرنے کے لیے پرانے ریونیو ریکارڈ، مردم شماری، نقشہ جات اور دیگر سرکاری دستاویزات سے مزید تصدیق ضروری ہوگی۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.







1 Review on “Ali Nagar”
ملک فیض دین کھوکھر کے والد کا نام ملک مبارز خان تھا مبارک خان نہیں