تاریخی اعتبار سے ضلع گجرات ہمیشہ سے پنجاب کا ایک اہم اور نمایاں خطہ رہا ہے۔ آج ہم فائنڈورا ڈائریکٹری (Findora Directory) کے اس بلاگ میں آپ کو سکھ دور، بالخصوص مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں ضلع گجرات کے انتظامی ڈھانچے کی تفصیلی سیر کرائیں گے۔
اس دور میں زمینی اور انتظامی معاملات کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے علاقوں کو تحصیلوں اور ذیلوں (Zails) میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ذیلدار مقامی سطح پر ٹیکس وصولی اور انتظامی معاملات کے ذمہ دار ہوتے تھے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق گجرات کو 7 تحصیلوں اور 46 ذیلوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔
آئیے اس تاریخی دستاویز کے مطابق ان تمام تحصیلوں اور ذیلوں کی مکمل فہرست پر نظر ڈالتے ہیں:
1. تحصیل قادرآباد (Kādirābād)
اس تحصیل کے زیرِ انتظام 4 ذیلیں شامل تھیں:
-
قادرآباد (Kādirābād)
-
موسیٰ (Mūsa)
-
گڑھی (Garhi)
-
ہیلنا (Helna)
2. تحصیل پھالیہ (Phālia)
پھالیہ کی تحصیل میں درج ذیل 3 ذیلیں آتی تھیں: 5. پھالیہ (Phālia) 6. جوکالیاں (Jokeliān) 7. پھلیاں والی (Phuliānwāli)
3. تحصیل دِنگہ (Dinga)
ڈنگہ تحصیل میں یہ 3 ذیلیں شامل تھیں: 8. واسنقو باوہ (Wasnqobāwa) 9. دِنگہ (Dinga) 10. چکریاں (Chakaryān)
4. تحصیل کنجاہ (Kamja)
اس تحصیل کی 3 ذیلیں یہ تھیں: 11. کنجیاں والا (Kanjianwāla) 12. ماجن (Mājen) 13. سادولالپورر (Sadulalpurar)
5. تحصیل وزیرآباد و کٹیالہ (Wazirābād Katilāla)
اس تحصیل کے زیرِ انتظام 4 ذیلیں تھیں: 14. کنجاہ (Kunjah) 15. مرہومال (Marhomāl) 16. شیکیوال (Shēkiwāl) 17. کٹیالہ (Katilāla)
6. تحصیل کھاری کرالی (Khari Karāli)
اس میں درج ذیل 3 ذیلیں شامل تھیں: 18. کھوبر (Khobar) 19. کھاری کرالی (Khari Karāli) 20. گنقوال (Ganqwal)
7. تحصیل گجرات (Gujrāt)
انتظامی لحاظ سے یہ سب سے بڑی تحصیل تھی جس میں 26 ذیلیں (نمبر 21 سے 46 تک) شامل تھیں: 21. کنجیاں والا (Kanjianwāla) 22. دھریو (Dhariyw.) 23. مولری (Molri.) 24. بھاگو (Bhago.) 25. گہلیاں (Gahliān.) 26. بھورساپور (Bhursāpur.) 27. دولت نگر (Daulatnagar.) 28. بالمولر (Balmūlar.) 29. کوٹلہ ککرالی (Kotla Kakrali.) 30. برنالہ (Barnāla.) 31. چاچل چھباں (Chachl Chhibān.) 32. ہنڈو (Hando.) 33. ناہورا (Nāhorā.) 34. مارل (Marl.) 35. ٹھٹہ ماسا (Thata Māsa.) 36. شاہباز پور (Shahbāzpur.) 37. رامکی (Ramki.) 38. پانے خان (Pānai Khān.) 39. بھیرووال (Bhairowāl.) 40. لکھیوالہ (Lakhiwāla.) 41. جلال پور (Jalālpur.) 42. ڈھال (Dhal.) 43. سکھ (Suk.) 44. شوخ پور (Shōkhpur.) 45. چاکری (Chākri.) 46. قصبہ گجرات (Kasba Gujrāt.)
سکھ دور کے سرکاری ریکارڈ اور مندرجہ بالا فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت کے گجرات کا انتظامی ڈھانچہ کتنا منظم تھا۔ آج کی جدید تحصیلیں اور یونین کونسلیں دراصل اسی پرانے نظام کی جدید شکل ہیں۔ تاریخی ورثے کی یہ معلومات ہمارے ماضی کے انتظامی شعور کو ظاہر کرتی ہیں۔
فائنڈورا ڈائریکٹری کا ہمیشہ سے یہی مقصد رہا ہے کہ آپ تک مستند، معلوماتی اور تاریخی حقائق پہنچائے جائیں۔ اپنے علاقے کی تاریخ اور مزید معلوماتی مضامین کے لیے فائنڈورا ڈائریکٹری کے ساتھ جڑے رہیں!
Leave a Reply