Profile
مراد وال
واڑہ عالم شاہ کے گردونواح میں آباد قدیم دیہات کے تعارف کا سلسلہ جاری ہے۔ آج ہم ذکر کریں گے گاؤں مراد وال کا، جو واڑہ عالم شاہ کے شمال مغرب میں تقریباً چار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک قدیم اور معروف بستی ہے۔ انتظامی طور پر یہ گاؤں تحصیل ملکوال، ضلع منڈی بہاؤالدین میں شامل ہے اور نہر لوئر جہلم کے شمالی کنارے کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اپنی زرعی اہمیت اور قدرتی حسن کے لیے جانا جاتا ہے۔
جغرافیائی محلِ وقوع
مراد وال، منڈی بہاؤالدین۔ملکوال روڈ سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر شمال کی جانب واقع ہے، جبکہ دریائے جہلم تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر بہتا ہے۔ گاؤں دو حصوں پر مشتمل ہے؛ ایک مرکزی آبادی اور دوسرا مراد وال لوکری کہلاتا ہے، جو مرکزی سڑک کے قریب آباد ہے۔
اس کے مشرق میں کٹووال، جنوب اور مغرب میں ہڑیا جبکہ شمال میں لوئر جہلم کینال واقع ہے۔ یہی جغرافیائی محلِ وقوع اس گاؤں کو زرعی اعتبار سے انتہائی موزوں بناتا ہے۔
تاریخی پس منظر
مراد وال کی بنیاد کے بارے میں مقامی روایات کے مطابق اس گاؤں کا نام ایک بزرگ مراد کے نام پر رکھا گیا۔ روایت ہے کہ مراد اور کٹو، ہڑیا نامی شخص کے بیٹے تھے۔ کسی خاندانی اختلاف کے باعث کٹو کو اپنے والد کا گھر چھوڑنا پڑا، تاہم بعد میں مراد نے اپنے بھائی کو واپس لا کر اپنی زمین میں سے حصہ دیا۔ اسی نسبت سے بعد میں دو الگ بستیاں وجود میں آئیں جنہیں آج مراد وال اور کٹووال کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اگرچہ اس روایت کے تاریخی شواہد محدود ہیں، تاہم مقامی آبادی نسل در نسل اسے اپنے گاؤں کی بنیاد سے منسوب کرتی چلی آرہی ہے۔
آبادی اور سماجی زندگی
مراد وال ایک متوسط درجے کا دیہات ہے جہاں تقریباً 300 گھرانے آباد ہیں اور آبادی تقریباً 1800 افراد پر مشتمل ہے۔
یہاں کی اکثریت مسلمان سنی آبادی پر مشتمل ہے۔ گاؤں کے لوگ اپنی سادگی، مہمان نوازی، باہمی تعاون اور پرامن طرزِ زندگی کے لیے مشہور ہیں۔ اگرچہ ماضی میں بعض خاندانی تنازعات موجود رہے، لیکن گزشتہ کئی برسوں سے گاؤں میں امن و امان کی فضا قائم ہے اور اختلافات مقامی سطح پر حل کرنے کی روایت مضبوط ہوئی ہے۔
برادریاں
مراد وال میں آباد نمایاں برادریوں میں شامل ہیں:
- گوندل
- وڑائچ
- مغل
- برکھے
- راجھے (قصبی)
- کمہار
- مچھی
- لوہار
- موچی
- ترکھان
- مسلم شیخ
- نائی
گوندل برادری یہاں کی سب سے بڑی اور نمایاں برادری شمار ہوتی ہے۔
معیشت
مراد وال کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر قائم ہے۔ یہاں کی زمین نہایت زرخیز ہے اور نہری پانی کے ساتھ ساتھ ٹیوب ویل بھی آبپاشی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اہم فصلوں میں شامل ہیں:
- گندم
- دھان
- مکئی
- آلو
- کماد
- جو
- چنا
- مٹر
- مختلف سبزیاں
کئی افراد سرکاری اداروں، خصوصاً واپڈا، فوج اور دیگر محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فرانس، اٹلی، یونان، اسپین، سعودی عرب، کویت اور دیگر ممالک میں روزگار سے وابستہ ہے۔
تعلیم
مراد وال میں شرح خواندگی نسبتاً بہتر سمجھی جاتی ہے اور تقریباً ہر گھر سے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
گاؤں میں موجود تعلیمی ادارے:
- گورنمنٹ پرائمری سکول برائے طلبہ
- گورنمنٹ مڈل سکول برائے طالبات
- کمیونٹی ماڈل ہائر سیکنڈری سکول (طالبات)
اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیات میں:
- فاروق احمد گوندل (ایم فل، ماحولیاتی علوم)
- ماسٹر محمد اکرم (ایم اے انگلش)
- انار ساجد گوندل
- محمد عارف وڑائچ
- ماسٹر خالد محمود
سمیت متعدد افراد شامل ہیں۔
مذہبی اور روحانی اہمیت
مراد وال کی ایک نمایاں شناخت یہاں موجود دو تاریخی مزارات ہیں:
حضرت سید معصوم شاہ المعروف پیر چھچھڑا
یہ مزار نہر لوئر جہلم کے کنارے واقع ہے اور پورے علاقے میں عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مقامی روایت کے مطابق حضرت معصوم شاہ اٹھارویں صدی میں یہاں تشریف لائے اور لوگوں کی دینی اصلاح و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
ہر اتوار کو دور دراز علاقوں سے لوگ فاتحہ خوانی اور دعا کے لیے یہاں حاضر ہوتے ہیں۔
حضرت نور شاہ بخاری
یہ مزار گاؤں کے اندر واقع ہے اور حضرت معصوم شاہ کے بھائی سے منسوب ہے۔ یہ بھی مقامی سطح پر ایک معروف روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
عبادت گاہیں
مراد وال میں چار مساجد موجود ہیں، جن میں ایک جامع مسجد بھی شامل ہے، جبکہ پیر چھچھڑا کے مزار کے ساتھ بھی ایک مسجد قائم ہے۔
صحت
گاؤں میں بنیادی طبی سہولت کے طور پر ایک نجی کلینک موجود ہے جبکہ بڑی بیماریوں کے علاج کے لیے لوگ ملکوال یا منڈی بہاؤالدین کا رخ کرتے ہیں۔
نمایاں شخصیات
مراد وال سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات میں شامل ہیں:
- سائیں محمد گوندل
- سکندر حیات گوندل
- افتخار احمد گوندل
- ماسٹر محمد نذیر
- روشن دین گوندل
- غلام حسین گوندل
- انور حسین گوندل
- زبیر سرور وڑائچ
اور دیگر متعدد سماجی، تعلیمی اور سرکاری خدمات انجام دینے والے افراد۔
مراد وال اپنی قدیم روایات، روحانی مراکز، زرخیز زمینوں، تعلیم دوست ماحول اور پرامن معاشرتی زندگی کی بدولت تحصیل ملکوال کے نمایاں دیہات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ بستی نہ صرف اپنی زرعی خوشحالی بلکہ مذہبی، سماجی اور اخلاقی اقدار کی وجہ سے بھی علاقے میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






