1770ء میں پنجاب کی 12 سکھ مثلیں: تاریخ، علاقے اور سکھ سلطنت کے قیام تک کا سفر

پنجاب میں سکھ مثلوں کا عروج

اٹھارہویں صدی کے وسط میں مغل سلطنت کے زوال اور مسلسل افغان حملوں کے باعث پنجاب میں سیاسی خلا پیدا ہو گیا۔ اس صورتحال میں سکھ سرداروں نے مختلف علاقوں میں اپنی فوجی اور انتظامی قوت قائم کی اور متعدد نیم خودمختار ریاستیں تشکیل دیں، جنہیں سکھ مثلیں (Sikh Misls) کہا جاتا ہے۔ تقریباً 1770ء تک پنجاب میں بارہ بڑی سکھ مثلیں موجود تھیں، جنہوں نے نہ صرف اپنے اپنے علاقوں کا انتظام سنبھالا بلکہ مستقبل میں سکھ سلطنت کے قیام کی بنیاد بھی رکھی۔

سکھ مثلیں کیا تھیں؟

“مثل” دراصل سکھ جنگجوؤں اور سرداروں کی ایک فوجی اور سیاسی تنظیم تھی، جس کا اپنا سربراہ، لشکر، انتظامی نظام اور زیرِ اثر علاقہ ہوتا تھا۔ اگرچہ تمام مثلیں مذہبی طور پر ایک دوسرے سے وابستہ تھیں، لیکن ہر مثل اپنی داخلی خودمختاری برقرار رکھتی تھی۔ مختلف مواقع پر یہ مثلیں مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہو جاتی تھیں، جبکہ بعض اوقات اقتدار اور علاقے کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے برسرِ پیکار بھی رہتی تھیں۔

پنجاب کی بارہ بڑی سکھ مثلیں

1770ء کے لگ بھگ پنجاب میں بارہ نمایاں سکھ مثلیں سرگرم تھیں۔ سکرچکیہ مثل گوجرانوالہ، وزیرآباد اور روہتاس کے علاقوں پر اثر و رسوخ رکھتی تھی اور بعد میں اسی مثل سے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا تعلق تھا۔ بھنگی مثل اس وقت کی طاقتور ترین مثلوں میں شمار ہوتی تھی اور لاہور، امرتسر اور قصور جیسے اہم شہروں پر اس کا کنٹرول تھا۔ کنہیا مثل کا اثر گورداسپور، بٹالہ اور جموں کے بعض علاقوں تک پھیلا ہوا تھا، جبکہ رام گڑھیا مثل جالندھر اور ہوشیارپور کے خطے میں مضبوط حیثیت رکھتی تھی۔

اسی طرح اہلووالیہ مثل کپورتھلہ اور سلطان پور لودھی میں حکمران تھی، جبکہ نکئی مثل قصور کے جنوبی علاقوں، دیپالپور اور موجودہ اوکاڑہ کے گردونواح پر قابض تھی۔ پھلکیاں مثل نے پٹیالہ، نابھا اور جند کی ریاستوں میں اپنی حکومت قائم کی، جبکہ فیض اللہ پوریہ یا سنگھ پوریہ مثل روپڑ اور آنندپور صاحب کے اطراف سرگرم تھی۔

مزید برآں کرورسنگھیا مثل ملتان کے شمالی علاقوں اور بھٹنڈہ کے گردونواح میں اثر رکھتی تھی، دلیوالیہ مثل امرتسر اور دوآبہ کے بعض علاقوں میں موجود تھی، نشانوالیہ مثل سرہند اور امبالہ کے اطراف سرگرم تھی، جبکہ شہیداں مثل بنیادی طور پر امرتسر اور دیگر مذہبی مراکز سے وابستہ سمجھی جاتی تھی۔

سکھ مثلوں کا سیاسی اور فوجی کردار

سکھ مثلوں نے مغل سلطنت کی کمزوری کے بعد پنجاب میں ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر مقامی حکومتیں قائم کیں۔ انہوں نے اپنے زیرِ اثر علاقوں میں محصولات وصول کیے، فوجی انتظام قائم کیا اور امن و امان برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اسی دوران احمد شاہ ابدالی اور دیگر افغان حملہ آوروں کے خلاف بھی سکھ مثلوں نے مزاحمت کی، جس سے پنجاب میں ان کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہوئی۔

اگرچہ مختلف مثلوں کے درمیان علاقے اور اقتدار کے حصول کے لیے تنازعات بھی جاری رہے، لیکن مشترکہ خطرات کے وقت وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتی تھیں۔ یہی سیاسی اور عسکری تجربہ بعد میں ایک مضبوط مرکزی حکومت کے قیام کا سبب بنا۔

رنجیت سنگھ اور سکھ سلطنت کا قیام

اٹھارہویں صدی کے اختتام تک سکرچکیہ مثل کے سربراہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنی سیاسی اور فوجی صلاحیتوں کے ذریعے دیگر مثلوں پر برتری حاصل کرنا شروع کر دی۔ 1799ء میں انہوں نے لاہور پر قبضہ کیا، جو اس دور کا سب سے اہم سیاسی واقعہ تھا۔ بعد ازاں 1801ء میں رنجیت سنگھ نے زیادہ تر سکھ مثلوں کو اپنے زیرِ اقتدار متحد کر کے سکھ سلطنت (Sikh Empire) کی بنیاد رکھی، جس نے آئندہ کئی دہائیوں تک پنجاب پر حکومت کی۔

تاریخی اہمیت

1770ء کے لگ بھگ پنجاب کی سکھ مثلیں صرف فوجی اتحاد نہیں تھیں بلکہ انہوں نے مغل اقتدار کے خاتمے کے بعد پنجاب میں نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھی۔ ان مثلوں نے مقامی حکمرانی، دفاعی انتظام اور علاقائی سیاست کو ایک نئی شکل دی، جبکہ انہی کی بنیاد پر بعد میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ایک متحد اور طاقتور سکھ سلطنت قائم کی۔ پنجاب کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے سکھ مثلوں کا مطالعہ نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہی دور خطے کی سیاسی تشکیل میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔

Muzammal Hussain Cheema
Author: Muzammal Hussain Cheema

Foundar of Findora Directory

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×
Findora
Findora Directory
منڈی بہاءالدین