ڈھوک کاسب (Dhok Kasib)
ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان
تعارف
ڈھوک کاسب ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک قدیم، تاریخی، زرعی اور تعلیمی لحاظ سے ممتاز گاؤں ہے، جو یونین کونسل کا درجہ بھی رکھتا ہے۔ یہ پنجاب کے زرخیز چج دوآب، یعنی دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان واقع ہے۔ گاؤں اپنی اعلیٰ شرحِ خواندگی، مضبوط سماجی روایات، زرعی ترقی، تعلیمی خدمات، کھیلوں اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی بڑی تعداد کے باعث ضلع کے نمایاں دیہات میں شمار ہوتا ہے۔
قریبی علاقوں میں ڈھوک کاسب کو “وڈا لوک” یعنی بڑا گاؤں بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ساہیاں کے علاقے کا ایک بڑا اور مرکزی گاؤں ہے۔
بنیادی معلومات
نام: ڈھوک کاسب (Dhok Kasib)
ملک: پاکستان
صوبہ: پنجاب
ضلع: منڈی بہاؤالدین
تحصیل: منڈی بہاؤالدین
جغرافیائی محل وقوع: 32°34′ شمال، 73°38′ مشرق
آبادی: تقریباً 10,000 افراد
شرح خواندگی: 80 فیصد سے زائد
زبانیں: پنجابی، اردو
بنیادی ذرائع معاش: زراعت، سرکاری ملازمت، کاروبار اور بیرونِ ملک روزگار
جغرافیائی محلِ وقوع
ڈھوک کاسب ضلع منڈی بہاؤالدین کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے اور چج دوآب کے زرخیز خطے کا حصہ ہے۔
فاصلے:
منڈی بہاؤالدین شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب مشرق میں جبکہ چیلیانوالہ ریلوے اسٹیشن سے تقریباً 6 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
قریبی آبادیاں
شمال: ڈھوک نواں لوک، چاہ مٹھ
مغرب: ڈھوک سہارن، ڈھوک جوڑی
جنوب مشرق: ٹبی مالووال، ڈھوک مراد
جنوب: مکھنانوالی، مرالہ
وجہ تسمیہ اور تاریخی پس منظر
مقامی روایات کے مطابق ڈھوک کاسب کی بنیاد کاسب ساہی نے رکھی، جو چیچہ وطنی کے علاقے شریں والا سے تعلق رکھتے تھے۔ روایت کے مطابق کاسب ساہی نے ابتدا میں مرالہ میں قیام کیا اور بعد ازاں ایک نئی آبادی قائم کی، جو ان کے نام سے ڈھوک کاسب کہلائی۔
مقامی تاریخی روایت کے مطابق گاؤں کی تاریخ تقریباً مغل بادشاہ جہانگیر کے دور، یعنی سولہویں صدی کے اواخر کے آس پاس تک پہنچتی ہے۔ کاسب ساہی کے چار بیٹوں کے نام سرمست، جربخش، جیوا یا جیون اور رسیدا بیان کیے جاتے ہیں۔ کاسب ساہی کی اولاد اور ان کے بیٹوں کی نسلیں ڈھوک کاسب میں آباد ہوئیں۔ جیوا کے بیٹوں مٹھا اور الہا سے ایک نئی آبادی قائم ہوئی جو بعد میں ڈھوک نواں لوک کے نام سے معروف ہوئی۔
مقامی معلومات کے مطابق گاؤں کی تین نمبرداریاں ساہی خاندان جبکہ ایک نمبرداری گوندل خاندان کے پاس رہی ہے۔ کاسب ساہی کے مدفن کے بارے میں مقامی روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ بعض روایات کے مطابق ان کی قبر مرالہ میں جبکہ بعض کے مطابق ڈھوک کاسب میں ہے۔
مقامی روایت کے مطابق آج بھی گاؤں کی تقریباً 70 سے 80 فیصد آبادی کاسب ساہی کی اولاد سے تعلق رکھتی ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ڈھوک کاسب نے مسلسل ترقی کی اور تعلیم، زراعت، سماجی خدمت، کھیل، سیاست، فوج اور مختلف قومی اداروں میں اہلِ دیہہ نے نمایاں کردار ادا کیا۔
تاریخی آثار اور نوادرات
ڈھوک کاسب اور اس کے قرب و جوار میں قدیم تہذیبوں اور مختلف تاریخی ادوار سے منسوب آثار ملنے کی مقامی اطلاعات موجود ہیں۔ ان میں قدیم سکے اور نوادرات شامل ہیں جنہیں مقامی سطح پر راجہ پورس، چندر گپت موریا، کنندہ سلطنت، ساکا، کشان، ساسانی، کابل شاہی، ہندو شاہی، غزنوی، کشمیری اور مغلیہ ادوار سے منسوب کیا جاتا ہے۔
ان آثار کی ایک اہم نجی مجموعہ ڈھوک کاسب ہیریٹیج کلیکشن کے نام سے محمد ندیم اختر کے پاس موجود ہے۔ ان کی کلیکشن کا ایک کیبن گجرات کے رام پیاری محل آرکیالوجی میوزیم میں بھی موجود بتایا جاتا ہے۔
یہ تاریخی معلومات مقامی روایت اور فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں؛ مختلف آثار اور سکوں کی باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی تصدیق الگ تحقیق کا موضوع ہے۔
یونین کونسل
فراہم کردہ معلومات کے مطابق یونین کونسل ڈھوک کاسب میں مختلف ادوار میں شامل دیہات کی فہرست میں تبدیلی رہی ہے۔
ایک فہرست کے مطابق:
- ڈھوک کاسب
- ڈھوک نواں لوک
- ٹبی مالووال
- ڈھوک مراد
- ڈھوک سہارن
جبکہ نئے نوٹیفکیشن کے مطابق:
- ڈھوک کاسب
- ڈھوک نواں لوک
- ٹبی مالووال
- مکھنانوالی
شامل ہیں۔
آبادی اور معاشرت
ڈھوک کاسب کی موجودہ آبادی تقریباً 10 ہزار نفوس پر مشتمل بتائی جاتی ہے۔ گاؤں نے قیامِ پاکستان کے بعد نمایاں سماجی اور معاشی ترقی کی ہے۔
مقامی معلومات کے مطابق تقسیمِ ہند سے قبل یہاں ساہی، گوندل، مونگیے اور ودھاوا خاندان آباد تھے، جبکہ 1947ء کے بعد آرائیں اور گوجر خاندان بھی یہاں آ کر آباد ہوئے۔
آج گاؤں میں باقاعدہ سڑکیں، گلیاں، نکاسی آب کا نظام اور بنیادی شہری سہولیات موجود ہیں۔ تعلیم کے فروغ نے نئی نسل میں شعور اور اعلیٰ تعلیم کا رجحان پیدا کیا ہے۔
ڈھوک کاسب کے لوگ عمومی طور پر تعلیم دوست، مہمان نواز، مذہبی اقدار کے پابند، سماجی طور پر منظم اور قومی خدمت کا جذبہ رکھنے والے سمجھے جاتے ہیں۔ گاؤں میں اجتماعی تعاون، باہمی احترام اور فلاحی سرگرمیوں کی مضبوط روایت موجود ہے۔
مرکزی دارہ اور مختلف برادریوں کے اپنے دارے آج بھی سماجی میل جول اور خوشی و غمی میں شرکت کے اہم مراکز ہیں۔
اہم برادریاں
ڈھوک کاسب میں ساہی برادری اکثریتی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ گوندل، آرائیں، گوجر اور دیگر مقامی برادریاں بھی آباد ہیں۔
ذرائع معاش
گاؤں کی معیشت بنیادی طور پر زراعت سے وابستہ ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمت، نجی کاروبار، مختلف پیشہ ورانہ شعبے اور بیرونِ ملک روزگار بھی اہلِ دیہہ کی آمدن کے اہم ذرائع ہیں۔
گاؤں کے متعدد افراد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، یورپ، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر گاؤں کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
زراعت
ڈھوک کاسب کی زمین زرخیز ہے اور یہاں مختلف فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ گندم، دھان، گنا، آلو، مکئی، جوار، باجرہ، برسیم، لوسرن اور دیگر چارہ جات گاؤں کی اہم زرعی پیداوار میں شامل ہیں۔
تعلیم
ڈھوک کاسب ضلع منڈی بہاؤالدین کے تعلیمی لحاظ سے ممتاز دیہات میں شمار ہوتا ہے۔ مقامی معلومات کے مطابق یہاں تعلیمی ترقی کی تاریخ ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے۔
تعلیمی تاریخ
1901ء: پرائمری اسکول کا قیام
1981ء: مڈل اسکول کا درجہ
1982ء: ہائی اسکول کا درجہ
بعد ازاں ادارہ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کا درجہ حاصل کر گیا۔
تعلیمی ادارے
- گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول ڈھوک کاسب
- گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول
- گورنمنٹ کمیونٹی مڈل اسکول
- غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ اسکول
- جامعہ بنات الاسلام
- یورو کڈ اسکول ڈھوک کاسب
- برائٹ فیوچر پبلک اسکول ڈھوک کاسب
- اسلامک سنٹر ڈھوک کاسب
ڈھوک کاسب ہاؤس، گجرات
1982-83ء میں گورنمنٹ سائنس ڈگری کالج گجرات میں زیرِ تعلیم ڈھوک کاسب کے سات طلبہ نے ایک کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی، جسے “ڈھوک کاسب ہاؤس” کہا جاتا تھا۔
اس گھر سے وابستہ متعدد نوجوان بعد میں استاد، انجینئر، پروفیسر، محقق اور سرکاری افسر بنے۔ نمایاں ناموں میں پروفیسر محمد انور فاخر، عبدالعزیز گوجر، عنایت اللہ قاری، محمد اصغر ساجد، انجینئر محمد اقبال، انجینئر محمد جمیل اور مرحوم زاہد رشید شامل ہیں۔
یہ رہائش گاہ گاؤں کی علمی تاریخ میں اجتماعی تعلیمی جدوجہد کی ایک قابلِ ذکر مثال سمجھی جاتی ہے۔
صحت کی سہولیات
گاؤں میں بنیادی طبی سہولیات دستیاب ہیں، جن میں:
- بنیادی مرکز صحت (Basic Health Unit)
- موجودہ مریم نواز کلینک
- ویٹرنری ہسپتال ڈھوک کاسب
شامل ہیں۔
مذہبی مراکز
ڈھوک کاسب میں دو خوبصورت جامع مساجد موجود ہیں جبکہ دینی تعلیم کے لیے مدارس اور مذہبی مراکز بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
گاؤں کا مذہبی و سماجی ماحول اجتماعی اور دینی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں ہے۔
نمایاں سماجی شخصیات
غلام عباس ساہی (مرحوم)
سابق چیئرمین یونین کونسل، ڈھوک کاسب کی مقامی سماجی و سیاسی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
سعی محمد ساہی (مرحوم)
سابق کونسلر، جنہوں نے مقامی سطح پر عوامی نمائندگی کا کردار ادا کیا۔
صوفی سردار خان ساہی (مرحوم)
گاؤں کی معروف سماجی شخصیت۔
باطی خان ساہی (مرحوم)
گاؤں کی نمایاں بزرگ سماجی شخصیت۔
غلام ربانی عارف (مرحوم)
گاؤں کی معروف شخصیت اور سماجی حلقوں میں قابلِ احترام نام۔
محمد ذوالقرنین ساہی
سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل ضلع گجرات اور سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب۔
ریاض فاروق ساہی
سابق ناظم اور چیئرمین پاکستانی ایسوسی ایشن، متحدہ عرب امارات۔
اختر محمود ساہی
سابق ناظم، مقامی سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں کردار ادا کیا۔
خالد محمود ساہی
گاؤں کی معروف سماجی شخصیت۔
احسان اللہ ساہی
صوبائی اسمبلی پنجاب کے امیدوار رہے۔
میاں عبدالمجید
ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور مقامی سطح پر معروف شخصیت۔
لال خان ساہی
سابق وائس چیئرمین۔
صفدر اقبال ساہی
ایڈووکیٹ اور گاؤں کی معروف پیشہ ورانہ شخصیت۔
محمد شہباز
سابق کونسلر۔
نذیر احمد
سابق کونسلر۔
طارق محمود ساہی
سابق رکن پنجاب اسمبلی۔
امجد اقبال ساہی
ڈھوک کاسب ویلفیئر کے بانی ممبر۔
رضوان احمد گوندل
ڈھوک کاسب ویلفیئر کے بانی ممبر۔
راشد اسلم آرائیں
میڈیسن پلس سے وابستہ معروف شخصیت۔
نمایاں تعلیم یافتہ شخصیات
محمد رفیق ساہی
ریٹائرڈ ایس ڈی او۔
جہان خان بھٹی
ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری۔
شیر محمد سلیم
ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر۔
محمد صغیر
ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر۔
سید عنایت علی شاہ
گاؤں کے پہلے گریجویٹ کے طور پر معروف۔
پروفیسر محمد صادق ساہی
تعلیمی شعبے سے وابستہ ممتاز شخصیت۔
عبدالحفیظ گوجر
اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ورانہ میدان میں خدمات انجام دینے والی شخصیت۔
خالد رشید
اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت۔
محمد عاطف
UET ٹیکسلا سے وابستہ اسکالر۔
ضیاء اللہ شاہین
تعلیمی و علمی میدان سے وابستہ شخصیت۔
اعجاز احمد ساہی
ایڈووکیٹ۔
آفتاب احمد ساہی
سابق ڈرگ انسپکٹر۔
شفیق الرحمن
فارماسسٹ۔
سکندر ساہی
لیکچرار۔
محمد نواز ساہی
ریٹائرڈ پرنسپل۔
ناصر اقبال مجاہد
مصنف۔
محمد اسحاق
آئل اینڈ گیس کے شعبے سے وابستہ۔
محمد الیاس
ڈسٹرکٹ کمپلیکس سے وابستہ۔
محمد رضوان اشرف
وائس ہیڈ ماسٹر۔
میجر قیصر فاروق ساہی (شہید)
پاک فوج کے شہید افسر۔
محمد ندیم اختر
آرکیالوجی ایکسپلورر اور ڈھوک کاسب کے تاریخی نوادرات کے معروف نجی کلیکٹر؛ سابق انسپکٹر SPCA ضلع راولپنڈی بھی رہے۔
عمران احمد سلیم
سابق اسسٹنٹ کمشنر۔
عرفان احمد سلیم
ایگریکلچر ریسرچ آفیسر۔
زمان نیاز
اسسٹنٹ پروفیسر۔
عرفان نیاز
پروفیسر، سپیریئر کالج۔
ڈاکٹر عمیر خالق صدیقی
چائلڈ اسپیشلسٹ سرجن۔
ڈھوک کاسب ویلفیئر
ڈھوک کاسب ویلفیئر کا قیام نومبر 2020ء میں گاؤں کے باشعور نوجوانوں نے باہمی مشاورت سے عمل میں لایا۔ تنظیم کا بنیادی مقصد اجتماعی فلاح، مستحق خاندانوں کی معاونت، بنیادی سہولیات کی بہتری، تعلیم، صحت، صفائی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے منظم انداز میں کام کرنا ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران تنظیم نے بیواؤں، یتیموں اور مستحق خاندانوں کی مالی معاونت، نادار مریضوں کے علاج میں تعاون اور صحت کارڈ کے اجرا سمیت مختلف رفاہی اقدامات کیے۔
گاؤں میں مستقل صفائی مہم، خاکروبوں کی تعیناتی، صاف پانی کے لیے آر او پلانٹس، سڑکوں کی مرمت، نہر کے پل کی تعمیر و مرمت، شجرکاری، سٹریٹ لائٹس، سائن بورڈز، مسافر خانوں، قبرستان کی صفائی و روشنی، سائبان اور قرآن گھر کی تعمیر جیسے منصوبوں پر بھی کام کیا گیا۔
تعلیمی میدان میں مستحق طلبہ کو بستے، کاپیاں، اسٹیشنری اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جاتا ہے جبکہ کھیلوں کے میدانوں کی مرمت، ٹورنامنٹس اور نوجوانوں کی کھیلوں میں سرپرستی بھی تنظیم کی سرگرمیوں میں شامل ہے۔
بانی ممبران
امجد اقبال ساہی
رضوان احمد گوندل
اراکین
محمد ندیم اختر
خالد محمود گجر
محمد افضل گوندل
حاجی مختار احمد ساہی
فلک شیر گوندل
اسد امانت علی
ادریس احمد
طارق محمود
حاجی ظفر اقبال
عثمان علی مہر
ڈھوک کاسب ویلفیئر کا سفر اجتماعی تعاون، شفافیت اور خدمتِ خلق کی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔
کھیل
ڈھوک کاسب کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ گاؤں کے معروف کھیلوں میں ہاکی، والی بال، فٹبال اور کرکٹ شامل ہیں۔
1980ء کی دہائی میں البدر ہاکی کلب ضلع بھر میں معروف تھا۔ 1986ء میں ضلعی ہاکی ٹورنامنٹ جبکہ 2002ء میں آل پاکستان شوٹنگ والی بال ٹورنامنٹ کا انعقاد بھی ڈھوک کاسب میں ہوا۔
گاؤں میں ہر سال مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں، جن میں کرکٹ، فٹبال اور والی بال نمایاں ہیں۔ 2025ء میں آل پنجاب فٹبال ٹورنامنٹ بھی کامیابی سے مکمل ہوا۔
ڈھوک کاسب فٹبال کلب بھی کھیلوں کے فروغ اور ٹورنامنٹس کے انعقاد میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔
ثقافتی و سماجی خصوصیات
ڈھوک کاسب کی ثقافت روایتی پنجابی اقدار اور جدید طرزِ زندگی کا امتزاج ہے۔ گاؤں میں چوپال کی روایت آج بھی قائم ہے جبکہ مختلف برادریوں کے دارے سماجی رابطے کا اہم ذریعہ ہیں۔
گاؤں کی نمایاں سماجی خصوصیات میں مضبوط خاندانی نظام، مہمان نوازی، باہمی احترام، مذہبی ہم آہنگی، اجتماعی تعاون، سماجی خدمت اور نوجوانوں میں تعلیم و کھیل کا بڑھتا ہوا رجحان شامل ہیں۔
ڈھوک کاسب کی شناخت
ڈھوک کاسب ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک تاریخی، تعلیمی اور زرعی لحاظ سے نمایاں گاؤں ہے۔ ساہی برادری کی اکثریت، قدیم تاریخی پس منظر، تاریخی آثار، اعلیٰ شرحِ خواندگی، مضبوط تعلیمی ادارے، قومی خدمات انجام دینے والی شخصیات، کھیلوں کی روایت، فلاحی تنظیمیں، زرخیز زرعی زمینیں اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی نمایاں تعداد اس گاؤں کی اہم شناخت ہیں۔
تعلیم، زراعت، کھیل، سماجی خدمت، قومی اداروں اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں اہلِ ڈھوک کاسب کی خدمات نے اسے ضلع منڈی بہاؤالدین کے ممتاز دیہات میں نمایاں مقام عطا کیا ہے۔
مقامی حوالہ جات / معلومات کے ذرائع
یہ پروفائل بنیادی طور پر اہلِ علاقہ کی فراہم کردہ معلومات، مقامی روایات، گاؤں کی سماجی و تاریخی معلومات اور مقامی افراد کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ تاریخی نوادرات، قدیم سکوں اور بعض تاریخی روایات کی حتمی تصدیق کے لیے متعلقہ آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ سے مزید تحقیق ضروری ہے۔
حوالہ:
اہلِ دیہہ و مقامی افراد، ڈھوک کاسب، تحصیل منڈی بہاؤالدین، ضلع منڈی بہاؤالدین۔
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.









