Profile
چوہدری یار محمد دریانہ
چوہدری یار محمد دریانہ (25 نومبر 1934ء – 3 فروری 2008ء) پاکستان کے محکمہ جیل خانہ جات کے ایک ممتاز افسر تھے، جنہوں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل سے اپنے سرکاری کیریئر کا آغاز کیا اور ترقی کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جیل خانہ جات کے عہدے تک پہنچے۔ وہ دیانت داری، فرض شناسی اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کے باعث محکمہ جیل میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
ابتدائی زندگی
چوہدری یار محمد دریانہ 25 نومبر 1934ء کو پنڈی راواں، تحصیل ملکوال، ضلع منڈی بہاؤالدین میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام چوہدری سردار خان دریانہ تھا۔
آپ کا نکاح معروف بوسال خاندان میں ہوا۔ آپ کنگ آف دی گوندل بار چوہدری مانک خان بوسال کے خاندان کے داماد اور چوہدری غلام حسین بوسال کے سسر تھے، جس کے باعث آپ کا تعلق علاقے کے ایک ممتاز زرعی و سماجی خاندان سے بھی قائم ہوا۔
سرکاری ملازمت
چوہدری یار محمد دریانہ نے 1958ء میں محکمہ جیل خانہ جات میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔
اپنی محنت، دیانت داری اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت آپ نے محکمہ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اپریل 1974ء میں اس وقت کے صدرِ پاکستان چوہدری فضل الٰہی سے اجازت حاصل کرنے کے بعد پنجاب پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں شرکت کی، جس میں نمایاں کامیابی کے بعد آپ براہِ راست سپرنٹنڈنٹ جیل مقرر ہوئے۔
بعد ازاں عمدہ محکمانہ کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جیل خانہ جات کے عہدے پر فائز ہوئے۔
اہم ذمہ داریاں
اپنی ملازمت کے دوران آپ نے پنجاب کی متعدد اہم جیلوں میں بطور سپرنٹنڈنٹ خدمات انجام دیں، جن میں شامل ہیں:
- راولپنڈی سینٹرل جیل (تین مرتبہ)
- گوجرانوالہ سینٹرل جیل (تین مرتبہ)
- سرگودھا جیل
- ساہیوال جیل
- کوٹ لکھپت جیل، لاہور
- ملتان سینٹرل جیل
سن 1979ء میں جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی، اس وقت چوہدری یار محمد دریانہ اسی جیل میں بطور سپرنٹنڈنٹ جیل تعینات تھے۔
کردار اور خدمات
چوہدری یار محمد دریانہ اپنی غیر معمولی دیانت داری، اصول پسندی اور فرض شناسی کے لیے مشہور تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پوری سرکاری ملازمت کے دوران نہ خود بدعنوانی کی اور نہ اپنے ماتحت عملے کو اس کی اجازت دی۔
وہ جہاں بھی تعینات ہوئے، وہاں نظم و ضبط، قانون کی بالادستی اور بہتر انتظامی روایات قائم کرنے کی کوشش کی۔ اسی وجہ سے محکمہ جیل خانہ جات میں انہیں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
ذاتی زندگی
چوہدری یار محمد دریانہ اپنی سادگی، دیانت داری اور حلال روزی پر یقین رکھنے والی شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت بھی انہی اصولوں کے مطابق کی اور معاشرے میں ایک باوقار سرکاری افسر کی حیثیت سے پہچانے گئے۔
وفات
چوہدری یار محمد دریانہ 3 فروری 2008ء کو انتقال کر گئے۔ انہیں ان کے آبائی گاؤں پنڈی راواں کے قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کیا گیا۔
چوہدری یار محمد دریانہ کو محکمہ جیل خانہ جات میں ایک دیانت دار، فرض شناس اور بااصول افسر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی انتظامی صلاحیتیں، اعلیٰ کردار اور عوامی خدمت کا جذبہ آج بھی ان کے خاندان، ساتھیوں اور جاننے والوں کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
مختصر معلومات
| معلومات | تفصیل |
|---|---|
| مکمل نام | چوہدری یار محمد دریانہ |
| پیدائش | 25 نومبر 1934ء |
| جائے پیدائش | ری راواں، تحصیل ملکوال، ضلع منڈی بہاؤالدین |
| وفات | 3 فروری 2008ء |
| پیشہ | سرکاری افسر |
| محکمہ | محکمہ جیل خانہ جات، پنجاب |
| ابتدائی عہدہ | ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل |
| اعلیٰ عہدہ | ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جیل خانہ جات |
| نمایاں خدمات | راولپنڈی، گوجرانوالہ، ساہیوال، سرگودھا، کوٹ لکھپت اور ملتان جیلوں میں خدمات |
| شہرت | دیانت داری، فرض شناسی اور بہترین انتظامی صلاحیت |
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






