Profile
زاہد محمود گوندل شہید
تعارف
ایس ایس پی زاہد محمود گوندل شہید پاکستان پولیس سروس کے ایک بہادر، دیانت دار اور فرض شناس افسر تھے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی قانون کی بالادستی، عوامی تحفظ اور ریاستی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کا تعلق ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال کے معروف گاؤں میانہ گوندل سے تھا۔ اپنی جرأت، شرافت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت وہ پنجاب پولیس کے نمایاں افسران میں شمار ہوتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
زاہد محمود گوندل ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں میانہ گوندل میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور گئے جہاں انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی وہ غیر معمولی ذہانت، قائدانہ صلاحیتوں اور نظم و ضبط کے لیے جانے جاتے تھے۔
پولیس سروس میں شمولیت
زاہد محمود گوندل نے 2005ء میں پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے 32ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے تحت شمولیت اختیار کی۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد انہوں نے پنجاب پولیس میں مختلف اہم انتظامی اور آپریشنل ذمہ داریاں سنبھالیں۔
ان کی پیشہ ورانہ زندگی دیانت داری، جرأت اور قانون کے یکساں نفاذ کی روشن مثال سمجھی جاتی ہے۔ ماتحت افسران اور عوام دونوں حلقوں میں وہ ایک باوقار اور قابلِ احترام افسر کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔
اہم سرکاری عہدے
اپنی سروس کے دوران انہوں نے متعدد اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دیں، جن میں:
- ڈی پی او راجن پور
- ایس ایس پی وی وی آئی پی سیکیورٹی لاہور
- ایس ایس پی آپریشنز لاہور
خصوصاً لاہور میں تعیناتی کے دوران امن و امان کے قیام اور حساس سیکیورٹی امور کی نگرانی میں ان کی خدمات کو بہت سراہا گیا۔
شہادت
13 فروری 2017ء کو لاہور کے تاریخی Charing Cross پر فارماسسٹ برادری کا احتجاج جاری تھا۔ ایس ایس پی زاہد محمود گوندل مظاہرین سے مذاکرات اور صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
اس افسوسناک حملے میں زاہد محمود گوندل، ڈی آئی جی احمد مبین اور متعدد پولیس اہلکار و شہری شہید ہوگئے۔ زاہد محمود گوندل نے اپنی جان کی قربانی دیتے ہوئے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
اعزازات
ملک و قوم کے لیے بے مثال قربانی کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی بہادری ایوارڈ تمغۂ جرأت سے نوازا۔
ان کی شہادت کو پنجاب پولیس کی تاریخ کی نمایاں قربانیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور انہیں فرض شناسی، جرات اور عوامی خدمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یادگاریں اور خراجِ عقیدت
زاہد محمود گوندل شہید کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے:
- میانہ گوندل کے سرکاری ہائی اسکول کا نام ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔
- منڈی بہاؤالدین کی پولیس لائنز کو “ایس ایس پی زاہد گوندل شہید پولیس لائنز” کا نام دیا گیا۔
- پنجاب پولیس اور مقامی سماجی حلقے ہر سال ان کی خدمات اور قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
ذاتی زندگی
زاہد محمود گوندل شہید اپنے پیچھے بیوہ اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے۔ ان کے اہلِ خانہ آج بھی ان کی قومی خدمات اور قربانی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
ایس ایس پی زاہد محمود گوندل شہید کی زندگی نوجوان نسل کے لیے خدمت، دیانت داری، جرات اور حب الوطنی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک سچا سرکاری افسر اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ ان کی شہادت پنجاب پولیس اور پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.






