Profile
سید محمود حسین بسمل
سید محمود بسمل پاکستان کے معروف اردو و پنجابی شاعر، صحافی، مدیر اور ادبی کارکن ہیں۔ ان کا اصل نام سید محمود حسین شاہ ہے جبکہ ادبی حلقوں میں وہ سید محمودبسمل کے قلمی نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت ادب، صحافت، ثقافت اور سماجی شعور کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اپنے ادبی سفر میں شاعری اور صحافت دونوں میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
سید محمودبسمل یکم جنوری 1959ء کو موضع گل والا، تحصیل وزیر آباد (موجودہ ضلع وزیر آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کے آبا و اجداد کا تعلق بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری کے موضع آملی مٹی سے تھا۔ ان کے دادا سید عنایت علی شاہ المعروف پیر ناتو شاہ اپنے علاقے کے معزز زمیندار اور ممتاز سماجی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔
ان کے والد سید منیر حسین شاہ مرحوم اپنے علاقے میں بگدر اُٹھانے والے پہلوان کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے وقت خاندان نے کشمیر سے ہجرت کی اور مختلف مہاجر کیمپوں میں قیام کے بعد موضع گل والا میں مستقل سکونت اختیار کی۔ بعد ازاں 1969ء میں خاندان حافظ آباد منتقل ہوگیا جہاں حکومتِ پاکستان کی جانب سے زرعی اراضی الاٹ کی گئی۔
تعلیمی سفر
سیدمحمود بسمل نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول گل والا سے حاصل کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 حافظ آباد سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ دورانِ ملازمت انہوں نے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے ایف اے مکمل کیا۔ ان کی تعلیمی زندگی کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق بھی مسلسل پروان چڑھتا رہا۔
ادبی شعور اور شاعری کا آغاز
سیدمحمود بسمل کے گھرانے میں مذہبی اور ادبی ماحول موجود تھا۔ ان کی والدہ سیدہ زینب بی بی مرحومہ گاؤں کی خواتین اور بچیوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیا کرتی تھیں۔ وہ پنجابی کلاسیکی ادب اور مذہبی منظومات ترنم سے پڑھتی تھیں جن میں شاہنامہ کربلا، اکرام محمدی، سیف الملوک اور پنج گنج جیسی معروف کتب شامل تھیں۔
اسی ادبی ماحول نے سید محمود بسمل کے اندر شعر و ادب سے شغف پیدا کیا۔ انہوں نے ابتدائی عمر میں پنجابی اصناف سی حرفی اور بارہ ماہ میں طبع آزمائی شروع کی جبکہ اردو شاعری کا باقاعدہ آغاز سکول کے زمانے میں ہوا۔ ان کی والدہ نے ان کی ادبی تربیت اور حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کیا۔
پہلا شعری مجموعہ
سید محمود بسمل کا پہلا شعری مجموعہ “آئنے میں سراب” اکتوبر 2025ء میں آن پبلی کیشنز، گوجرانوالہ کے زیرِ اہتمام شائع ہوا۔ یہ مجموعہ ان کے طویل ادبی سفر، فکری پختگی اور شعری ریاضت کا نچوڑ تصور کیا جاتا ہے۔
“آئنے میں سراب” میں شامل غزلوں میں انسانی احساسات، محبت، ہجر، سماجی رویے، زندگی کی ناپائیداری، خواب اور حقیقت کے باہمی تعلق، اور عصرِ حاضر کے فکری مسائل کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ اس مجموعے نے ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کی اور سید محمود بسمل کی شاعرانہ شناخت کو مزید مستحکم کیا۔
سید محمود بسمل اردو اور پنجابی ادب کے ان سنجیدہ اور مخلص اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ ادب اور صحافت کی خدمت میں صرف کیا۔ ان کی شخصیت میں کشمیری روایات، پنجابی ثقافت، صوفیانہ مزاج، صحافتی بصیرت اور ادبی شعور کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔
ان کا شعری مجموعہ “آئنے میں سراب” ان کے ادبی سفر کی ایک اہم سنگِ میل حیثیت رکھتا ہے، جو ان کی فکری گہرائی، تخلیقی صلاحیت اور شعری پختگی کا مؤثر اظہار ہے۔
ادبی وابستگیاں اور فنی تربیت
میرپور آزاد کشمیر میں قیام کے دوران سید محمودبسمل ادبی تنظیم بزم اہل قلم سے وابستہ ہوئے۔ یہاں انہیں متعدد معروف شعرا اور ادبا کی رفاقت حاصل ہوئی۔ اسی عرصے میں عالمی ادبی کانفرنس مظفر آباد میں شرکت کے دوران ان کی ملاقات معروف شاعر، ادیب اور انشائیہ نگار جان کاشمیری سے ہوئی۔
بعد ازاں انہوں نے جان کاشمیری کی شاگردی اختیار کی اور علمِ عروض، فنِ سخن اور شاعری کے فنی رموز سیکھے۔ اس تربیت نے ان کے شعری سفر کو مزید نکھار بخشا اور ان کی ادبی شناخت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
صحافت اور ادارت
سید محمود بسمل نے صحافت کے میدان میں بھی طویل اور قابلِ ذکر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے مختلف قومی اور علاقائی اخبارات و جرائد میں بطور مدیر، کالم نگار اور صحافی کام کیا۔ روزنامہ تان، روزنامہ سماج، روزنامہ سرپرائز نیوز، ماہنامہ سرپرائز انٹرنیشنل، ہفت روزہ حافظ آباد ٹائمز، روزنامہ منزل مراد اور روزنامہ ذی وقار سمیت متعدد اشاعتی اداروں سے ان کا عملی تعلق رہا۔
انہوں نے ایکسپریس میڈیا گروپ کے ساتھ بھی خدمات سرانجام دیں اور گوجرانوالہ، حافظ آباد اور آزاد کشمیر کے صحافتی و ادبی حلقوں میں ایک باوقار شناخت قائم کی۔
ادبی خدمات
سیدمحمود بسمل اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ہجرت، شناخت، دیہی تہذیب، انسانی جذبات، روحانیت، عشق، سماجی مسائل اور قومی شعور جیسے موضوعات نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کلام مختلف اخبارات، جرائد اور ادبی رسائل میں شائع ہوتا رہا ہے اور ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ذاتی زندگی اور جدوجہد
سیدمحمود بسمل کی زندگی مسلسل جدوجہد، صبر اور استقامت کی داستان ہے۔ سن 2000ء میں ان کی اہلیہ شدید علالت کا شکار ہوئیں اور طویل عرصہ بیماری کا سامنا کرتی رہیں۔ بعد ازاں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو گئیں اور دسمبر 2020ء میں انتقال کر گئیں۔
اس دوران مسلسل نقل مکانی، معاشی مشکلات اور گھریلو مسائل کے باعث ان کی شاعری پر مشتمل متعدد ضخیم ڈائریاں ضائع ہو گئیں، جس سے ان کا ایک بڑا ادبی سرمایہ محفوظ نہ رہ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ طویل ادبی سفر کے باوجود ان کا کوئی باقاعدہ شعری مجموعہ تاحال شائع نہیں ہو سکا۔
سید محمودبسمل اردو اور پنجابی ادب کے ان سنجیدہ اور مخلص اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ادب اور صحافت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کی شخصیت میں کشمیری روایات، پنجابی ثقافت، صوفیانہ مزاج، صحافتی بصیرت اور ادبی شعور کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کا ادبی و صحافتی سفر جدوجہد، استقامت اور فکری وابستگی کی ایک قابلِ احترام داستان ہے۔
Map
Sorry, no records were found. Please adjust your search criteria and try again.
Sorry, unable to load the Maps API.




