گھر کے ہوتے بھی گھر نہیں جاتا
کوٸی خلوت میں مر نہیں جاتا
راستے میں بچھڑ تو جاتا ہے
آنکھ سے ہمسفر نہیں جاتا
تجھ کو دیکھاہے جب سے جان جاں
میں کسی کام پر نہیں جاتا
اپنے ہونٹوں کو ہونٹ پر رکھ دے
نشہ جب تک اتر نہیں جاتا
حرص دستار گر نہیں ہوتی
تو کبھی تیرا سر نہیں جاتا
درد سینے کا دور کر تو ہی
میں مسیحا کے گھر نہیں جاتا
تیری نظروں میں گر اتر جاتا
تیرے دل میں اتر نہیں جاتا
تجھ سے نفرت اگر مجھے ہوتی
تو نظر سے اتر نہیں جاتا
تیرے کوچے میں جو چلا آئے
وہ کبھی اپنے گھر نہیں جاتا
یہ محبت کا درد ہے پیارے
درد یہ عمر بھر نہیں جاتا
شعیب الحسن





