کنارِ دشت ندی آشنائے دشت نہیں
حصولِ قرب ہی وصلت کا بندوبست نہیں
ہر ایک شخص کو لگتی ہے اپنی اپنی کیوں!
اگر یہ شاعری میری بھی سرگزشت نہیں
نکلتا جاتا ہے مٹھی سے ریت کی صورت
اگرچہ وقت سمندر ہے جس کا انت نہیں
ہم ارتقا میں بھلا بیٹھے ہیں بقا کا سوال
ہمارے صحن میں بچے تو ہیں درخت نہیں
ثنائے معجزہ گر ہےستائشِ تخلیق
جو نیکیوں کو نہ پرکھے وہ نیک بخت نہیں
کئی زمانوں کے کوہ و دمن میں پھرتی ہے
تو کیا یہ شاعری آوازِ بازگشت نہیں؟
یہ کوئی اور ہے دیوار راہِ جنت میں
مزاج میرے خدا کا تو اتنا سخت نہیں
سمے کی ڈور بھی جاذبؔ کہیں تو کٹتی ہے
بندھا جو وقت سے تخلیق کارِ وقت نہیں
محمد اکرم جاذب





