وہ گزرے وقت کا تھوڑا سا اب خیال کرے
وہ مجھ سے ٹوٹے ہوئے رابطے بحال کرے
عجیب شخص ہے خلوت میں مجھ کو ڈھونڈتا ہے
اور انجمن میں مجھے دیکھ کر ملال کر
میں اس کے جبر کی شدت سے ٹوٹ بھی جاؤں
بشرطِ یہ کہ وہ مجھ کو بھی لازوال کرے
وہ چاہتا ہے کہ میں ضبط کی حدوں میں رہوں
مگر وہ خود ہی سرِ شام مجھ کو کال کرے
عجب یہ ضد ہے کہ ہنسنا بھی ہے بچھڑنا بھی
وہ چاہتا ہے کہ دکھ کو بھی بے مثال کرے
میں ایک حرفِ شکستہ ہوں اس کی یادوں کا
وہ چاہے تو مجھے معنی میں با کمال کرے
کبھی تو عکسِ حقیقت اسے بھی دکھلائے
کبھی تو آئینہ اس سے کوئی سوال کرے
شعیب الحسن بوسال





