سسکیاں جب مجھے تڑپاتی ہیں سناٹوں کی
سرحدیں شور سے ملواتی ہیں سناٹوں کی
جب بھی آواز لگاتا ہوں کہ میرا کوئی ہے؟
وحشتیں گونجنے لگ جاتی ہیں سناٹوں کی
میری گم گشتہ صدائیں یہاں مل جاتی ہیں
یہ جو پگڈنڈیاں بل کھاتی ہیں سناٹوں کی
اوب جاتا ہوں میں جب کھردری آوازوں سے
مخملیں بانہیں بہت بھاتی ہیں سناٹوں کی
میری تنہائیاں اشعار میں گونج اٹھتی ہیں
محنتیں یوں بھی ثمر لاتی ہیں سناٹوں کی
محمد اکرم جاذب





