درد میں چاشنی اس طرح ملا لی میں نے
شعر سے صورتِ خوش رنگ بنا لی میں نے
ایک لاوا کہ ابلتا ہی چلا جاتا ہے
ایک خواہش کہ جو سینے میں دبا لی میں نے
کوئی کیا سمجھے کہ دکھ شعر میں ڈھالے کیسے
کس طرح دشت سے یہ نہر نکالی میں نے
رنج دیتا رہا ویرانۂ دل کا منظر
شکر صد شکر ہوس کوئی نہ پالی میں نے
دین سمجھیں یہ کسی لمحۂ بیداری کی
کم سے کم نیند تو خوابوں سے چھڑا لی میں نے
تب دکھائی دیے سب دیکھنے والے جاذبؔ
جب نظر عکسِ گلِ تر سے ہٹا لی میں نے
محمد اکرم جاذب





