جو بے گناہ کی تعذیر بولتی رہے گی
ہمارے پاؤں میں زنجیر بولتی رہے گی
تمہارا دین تو داعی ہے امنِ عالم کا
بشر کے خون کی توقیر بولتی رہے گی
بیانِ لفظ و معانی میں آ نہیں سکتی
جو کیفیت پسِ تحریر بولتی رہے گی
ہمارے خواب ہی قاتل کے پاس گروی ہیں
لہولہان سی تعبیر بولتی رہے گی
سکوتِ مرگ کی منصف ہزار چاہ کرے
لہو میں تر کوئی شمشیر بولتی رہے گی
کرے گی فخر جس اجرت پہ برملا تدبیر
اسی کو اپنا یہ تقدیر بولتی رہے گی
نجانے کیوں یہ گلی ملکیت سی لگتی ہے
ہمیشہ جو مجھے رہگیر بولتی رہے گی
صدائیں اجنبی ہوجائیں گی سبھی جاذبؔ
اگر یونہی کوئی تصویر بولتی رہے گی
محمد اکرم جاذب





