بے ناموں کے نام ہوئے ہیں آقاؐ کی لجپالی سے
صحراؤں میں پھول کِھلے ہیں گنبد کی ہریالی سے
ایک علاقہ بن کر اُبھرا تہذیب ِ انسانی کا
جو خطّہ مشہور ہوا تھا قدروں کی پامالی سے
چاند نے اونچے میناروں کے سائے میں آرام کیا
سورج کرنیں لینے آیا ایک سنہری جالی سے
ایک علَم بر دار کا قصّہ تاریخیں دہرائیں گی
خیبر یاد رکھاجائے گا نسلوں کی خوشحالی سے
اک آواز پہ اک مرکز پر آئے آپ کی رحمت سے
ایک ہی دستر خوان پہ بیٹھے ، کھایا ایک ہی تھالی سے
نسلِ ابراہیمؑ میں نورِ احمد ِمُرسل ؐ رہتا ہے
عصمت کی ترسیل ہوئی ہے ددھیالی ننھیالی سے
آنکھوں دیکھے حال کے واقف صرف علی ؑ کے باباؑ ہیں
پھولوں کے بچپن کی باتیں پوچھو باغ کے مالی سے
سیّدحسنین محسن





