مرے سوال کا کوئی جواب ہے ترے پاس
مری طرح کا حسیں کوئی خواب ہے ترے پاس
میں اشک اشک ہوں اور بہہ رہا ہوں مدت سے
ذرا بتا کوئی ایسا چناب ہے ترے پاس
حسین چہرے پہ زلفوں کا یہ تقاضا ہے
سجانے کے لئے تازہ گلاب ہے ترے پاس
ذرا سی بات جو بگڑی ستم کا شکوہ شروع
جو مجھ پہ ڈھائے ہیں ان کا حساب ہے ترے پاس
تجھے خبر ہی نہیں کس قدر حسین ہے تو
کسی پہ آیا نہیں وہ شباب ہے ترے پاس
نہ جانے کتنے انہیں دیکھ کر ہوئے گم صم
یہ تیری آنکھیں نہیں ہیں شراب ہے ترے پاس
میں چاہتا ہوں کہ سمجھا ہی لوں اسے زاہدؔ
مگر وہ دل بھی تو خانہ خراب ہے ترے پاس
حکیم محبوب زاہد








Leave a Reply