صحافی بھی ریاست کی ذمہ داری ہیں
تحریر: حاجی مظہر اقبال گوندل
ریاست کا بنیادی فرض اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت وقتاً فوقتاً مختلف طبقات کے لیے فلاحی منصوبے متعارف کرواتی رہتی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، کسان کارڈ، ہاری کارڈ، صحت کارڈ، بیوہ اور معذور افراد کے وظائف، بزرگ شہریوں کی پنشن، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، ائمہ و خطباء کے وظائف، طلبہ کی اسکالرشپس، بلاسود قرضہ اسکیمیں، نوجوانوں کے لیے روزگار کے منصوبے اور دیگر کئی پروگرام اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ان منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تاکہ معاشرے کے مختلف طبقات کو سہارا مل سکے۔ یہ تمام اقدامات اپنی جگہ قابلِ تحسین ہیں۔
لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو دن رات عوام اور ریاست کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے، مگر اس کی معاشی مشکلات پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ یہ طبقہ صحافی برادری ہے، خصوصاً ضلعی اور تحصیل سطح پر کام کرنے والے وہ صحافی جو محدود وسائل کے باوجود عوامی مسائل اجاگر کرتے ہیں، سرکاری اداروں کی مثبت کارکردگی بھی سامنے لاتے ہیں، بدعنوانی، ناانصافی اور عوامی مشکلات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور ہر موسم، ہر وقت اور ہر مشکل صورتحال میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے بیشتر مقامی صحافی کسی مستقل تنخواہ، سروس اسٹرکچر یا سماجی تحفظ کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ حادثہ ہو، سیلاب آئے، بارش ہو، شدید گرمی ہو یا سرد رات، صحافی سب سے پہلے موقع پر پہنچتا ہے۔ وہ اپنی جان اور وسائل کو داؤ پر لگا کر عوام کو بروقت معلومات فراہم کرتا ہے، لیکن جب خود اس کے گھر میں معاشی مشکلات جنم لیتی ہیں تو اس کے لیے کوئی باقاعدہ فلاحی نظام موجود نہیں ہوتا۔
یہ مطالبہ کسی خصوصی رعایت کا نہیں بلکہ ایک ایسے طبقے کی فلاح پر سنجیدہ غور کرنے کا ہے جو ریاستی نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حکومت اگر مستحق، فعال اور رجسٹرڈ صحافیوں کے لیے شفاف معیار کے تحت اعزازیہ، ہیلتھ انشورنس، حادثاتی انشورنس، بچوں کی تعلیمی اسکالرشپس، بلاسود قرضہ، ہاؤسنگ سہولت، پنشن یا ویلفیئر فنڈ جیسی سہولتیں متعارف کرائے تو اس سے نہ صرف صحافیوں کی معاشی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ صحافت کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی کسی بھی اسکیم کا غلط استعمال نہ ہو۔ اس کے لیے واضح اور شفاف معیار مقرر کیا جائے تاکہ صرف وہی صحافی مستفید ہوں جو واقعی عملی صحافت سے وابستہ ہیں، باقاعدگی سے کام کر رہے ہیں اور پیشہ ورانہ اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف حقیقی صحافیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ صحافت کے شعبے کا وقار بھی بلند ہوگا۔
ایک مضبوط، باوقار اور معاشی طور پر مستحکم صحافی ہی آزادانہ اور ذمہ داری سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے۔ جب صحافی خود معاشی پریشانیوں کا شکار ہوگا تو اس سے غیرجانبدار اور معیاری صحافت کی توقع کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ اس لیے وقت آ گیا ہے کہ حکومت جس طرح معاشرے کے دیگر طبقات کی فلاح کے لیے منصوبے بنا رہی ہے، اسی طرح صحافی برادری کے لیے بھی ایک جامع ویلفیئر پیکج یا اعزازیہ اسکیم متعارف کرائے۔ آخرکار صحافی صرف خبروں کا امین نہیں بلکہ ریاست، عوام اور جمہوریت کے درمیان اعتماد کا ایک مضبوط ستون بھی ہے، اور اس ستون کو مضبوط کرنا درحقیقت ریاست کو مضبوط کرنا ہے۔








Leave a Reply