میں خود بھی غضبناک تھا اَڑیَل تھی ہوا بھی
اس دن مری ہیبت سے ہلا برگدِ لا بھی
جیسے تو مجھے بھول چکی ہے نہیں لگتا
موجود کے اندر مرا ہونا کبھی تھا بھی
اس دشت میں خیمہ ہے جہاں رات گئے پر
سر مارتی رہتی ہے طنابوں پہ ہوا بھی
جب تک تو مجھے دیس نکالا نہیں دیتی
میں تخت ہزارے سے نکلتا نہیں بھابھی
صف بستہ و لب بستہ کھڑے پیڑ تو دیکھو
آمادہِ پیکار ہیں اور محوِ ثنا بھی
عقیل عباس








Leave a Reply